انوارالعلوم (جلد 15) — Page 556
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ما يَكُونُ لَنَّا أَن تَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ رَبُّنَا - ۱۸ کفار نے حضرت شعیب علیہ السلام سے کہا کہ آؤ اور ہم میں مل جاؤ تو حضرت شعیب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ ہمارے لئے یہ بالکل ناممکن ہے کہ تمہارے مذہب میں شامل ہوں ہاں اگر خدا چاہے تو ہو سکتا ہے۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت شعیب کو کا فر کر دینا اللہ تعالیٰ کیلئے ممکن تھایا شعیب کا کافر ہو جانا ممکن تھا۔یقیناً اُن کا کافر ہونا ناممکن تھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔مگر انہوں نے یہ کہا اور اس لئے کہا تا اللہ تعالیٰ کا مقام اور اُس کی عظمت لوگوں پر ظاہر ہو کہ گو میرا کا فر ہونا ناممکن ہے مگر اس میں میرے نفس کی کوئی بڑائی نہیں بلکہ یہ مقام محض اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوا ہے اگر وہ نہ ہو تو پھر یہ عصمت بھی نہ رہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی کلمات نکلوائے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے قُلْ اِن كَانَ لِلرِّحْمَنِ وَلَد فَأَنَا أَوَّلُ الْمُبِدِينَ ١٩ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا کا بیٹا ہو تو میں سب سے پہلے اُس کی پرستش اور عبادت کرنے کیلئے تیار ہوں۔اب اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے بیٹے کا امکان موجود ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ خدا کا بیٹا تو یقینا کوئی نہیں لیکن اگر ہوتا تو میرے جیسا مطیع و فرمانبردار بندہ اُس کی ضرور عبادت کرتا۔اسی طرح حضرت ابو بکڑ سے گو کفر بواح کا صدور بالکل ناممکن تھا مگر آپ نے صداقت از لی کی اہمیت لوگوں کو ذہن نشین کرانے کیلئے فرما دیا کہ اگر میں بھی اس کے مقابلہ میں آ جاؤں تو میری پروا نہ کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ ایهای حضرت می موعود علیہ السلام ہی مسیح ا کا بھی ایک واقعہ ہے۔آپ کے زمانہ میں ایک شخص میاں نظام الدین نامی تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو تمام ہندوستان میں ایک شور مچ گیا ، اُن دنوں حضرت خلیفہ اول جموں سے چند دنوں کی رخصت لیکر لاہور آئے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی وہیں جا پہنچے اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ صرف حدیثوں سے اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہئے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ حدیث حاکم نہیں بلکہ قرآن حاکم ہے۔پس ہمیں اس معاملہ کا قرآن کریم کی آیات سے فیصلہ کرنا چاہئے۔اس پر کئی دن بحث ہوتی رہی اور ایک