انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 547

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کہ وہ خود ان کو خلیفہ بنائے گا۔پس گو خلفاء کا انتخاب مؤمنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتا تا ہے کہ ایسے خلفاء میں میں فلاں فلاں خاصیتیں پیدا کر دیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعام الہی ہوتے ہیں۔پس اس صورت میں اس اعتراض کی تفصیل یہ ہوئی کہ کیا اُمت کو حق نہیں کہ وہ اس شخص کو جو کامل موحد ہے جس کے دین کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے خدا نے تمام خطرات کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ شرک کو مٹانا چاہتا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کو محفوظ کرنا چاہتا ہے معزول کر دے۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو امتِ اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی۔ایسے شخص کو تو شیطان کے چیلے ہی معزول کریں گے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وعدہ کا لفظ ہے اور وعدہ احسان پر دلالت کرتا ہے۔پس اس اعتراض کے معنی یہ ہوں گے کہ چونکہ انعام کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے امت کے ہاتھ میں رکھا ہے اسے کیوں حق نہیں کہ وہ اس انعام کو رڈ کر دے۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ استنباط بدترین استنباط ہے۔جو انعام منہ مانگے ملے اس کا رڈ کرنا تو انسان کو اور بھی مجرم بنا دیتا ہے اور اس پر شدید حجت قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرمائے گا کہ اے لوگو ! میں نے تمہاری مرضی پر چھوڑا اور کہا کہ میرے انعام کو کس صورت میں لینا چاہتے ہو؟ تم نے کہا ہم اس انعام کو فلاں وے ں شخص کی صورت میں لینا چاہتے ہیں اور میں نے اپنے فضل اس شخص کے ساتھ وابستہ کر دئیے۔جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں۔اب اس نعمت کے اوپر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ اسی کی طرف اشارہ کرنے کیلئے فرمایا کہ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأوليكَ هُمُ الْفَسِقُونَ - یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے اُمت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ اس انتخاب میں ہم اُمت کی راہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس کے بعد امت کا اختیار نہیں ہوتا اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یا د ر کھے وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام کی بے قدری کرتا ہے۔پس مَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الفسقُونَ اگر انتخاب کے وقت وه أمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت میں شامل تھا تو اب اس اقدام کی وجہ سے ہماری درگاہ میں اس کا نام دو عملوا الصلحت کی فہرست سے کاٹ کر فاسقوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔