انوارالعلوم (جلد 15) — Page 472
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اُسی دن میں نے اپنے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا متفقہ فیصلہ رشتہ داروں کو جمع کیا اور اُن سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ ایسا شخص ہی مقرر ہونا چاہئے جس کے عقائد ہمارے عقائد کے ساتھ متفق ہوں مگر میں نے ان کو سمجھایا کہ اصل چیز جس کی اس وقت ہمیں ضرورت ہے اتفاق ہے۔خلیفہ کا ہونا بے شک ہمارے نزد یک مذهباً ضروری ہے لیکن چونکہ جماعت میں اختلاف پیدا ہونا بھی مناسب نہیں ، اس لئے اگر وہ بھی کسی کو خلیفہ بنانے میں ہمارے ساتھ متحد ہوں تو مناسب یہ ہے کہ عام رائے لے لی جائے اور اگر انہیں اس سے اختلاف ہو تو کسی ایسے آدمی کی خلافت پر اتفاق کیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر انہیں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے چاہے وہ مولوی محمد علی صاحب ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات منوانی اگر چہ سخت مشکل تھی مگر میرے اصرار پر ہمارے تمام خاندان نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔اس کے بعد میں مولوی محمد علی صاحب سے ملا مولوی محمد علی صاحب سے ملاقات اور میں نے اُن سے کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔چنانچہ ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ حضرت خلیفہ اسی کی وفات کے بعد جلد ہی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس وجہ سے کہ جماعت میں اختلاف ہے اور فتنے کا ڈر ہے پورے طور پر بحث کر کے ایک بات پر متفق ہو کر کام کرنا چاہئے۔میں نے کہا گل تک امید ہے کافی لوگ جمع ہو جائیں گے۔اس لئے میرے نزدیک کل جب تمام لوگ جمع ہو جائیں تو مشورہ کر لیا جائے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے۔چار پانچ ماہ جماعت غور کر لے پھر اس کے بعد جو فیصلہ ہو اس پر عمل کر لیا جائے۔میں نے کہا کہ اس عرصہ میں اگر جماعت کے اندر کوئی فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔جماعت بغیر لیڈر اور راہنما کے ہوگی اور جب جماعت کا کوئی امام نہیں ہوگا تو کون اس کے جھگڑوں کو حل کرے گا اور جماعت کے لوگ کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے۔فساد کا کوئی وقت مقرر نہیں، ممکن ہے آج شام کو ہی ہو جائے پس یہ سوال رہنے دیں کہ آج اس امر کا فیصلہ نہ ہو کہ کون خلیفہ بنے بلکہ آج سے پانچ ماہ کے بعد فیصلہ ہو۔ہاں اس امر پر ہمیں ضرور بحث کرنی چاہئے کہ کون خلیفہ ہو اور میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا