انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 473

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہوں کہ میں اور میرے ہم خیال اس بات پر تیار ہیں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔مولوی صاحب نے کہا یہ بڑی مشکل بات ہے آپ سوچ لیں اور کل اس پر پھر گفتگو ہو جائے چنانچہ ہم دونوں الگ ہو گئے۔رات کو جب میں تہجد کیلئے اٹھا تو بھائی مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ عبدالرحمن صاحب قادیانی نے مجھے ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیر ونجات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔میں نے اسے دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت پر زور دیا۔گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہیں چلنا چاہئے اور یہ کہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت بھی انہوں نے بطور ایک پیر کے کی تھی نہ کہ بطور خلیفہ کے۔ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جماعت کا ایک امیر ہو سکتا ہے مگر وہ بھی ایسا ہونا چاہئے جو واجب الاطاعت نہ ہو، جو غیر احمد یوں کو کافر نہ کہتا ہو اور جس کی چالیس سال سے زیادہ عمر ہو۔مقصد یہ تھا کہ اگر خلیفہ بنایا جائے تو مولوی محمد علی صاحب کو کیونکہ اُن کی عمر اس وقت چالیس سال سے زائد تھی اور وہ غیر احمدیوں کو کا فر بھی نہیں کہتے تھے۔انتخاب خلافت پر جماعت کے میں نے جب یہ ٹریکٹ پڑھا تو آنے والے فتنہ کا تصور کر کے خود بھی دعا میں لگ گیا اور نوے فیصد دوستوں کا اتفاق دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں تھے اُن کو بھی میں نے جگایا اور اس ٹریکٹ سے باخبر کرتے ہوئے انہیں دعاؤں کی تاکید کی۔چنانچہ ہم سب نے دعائیں کیں۔روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدیوں نے بھی دعاؤں اور روزہ میں حصہ لیا۔صبح کے وقت بعض دوستوں نے یہ محسوس کر کے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح اول کی وصیتوں کی بھی تحقیر کی ہے ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی تا معلوم ہو کہ جماعت کا رحجان کدھر ہے۔اس میں جماعت کے دوستوں سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ بتائیں حضرت خلیفہ اول کے بعد کیا ویسا ہی کوئی خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں جیسا کہ حضرت خلیفہ اول تھے اور یہ کہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت آپ کو خلیفہ سمجھ کر کی تھی یا ایک پیر اور صوفی سمجھ کر۔اس ذریعہ سے جماعت کے دوستوں کے خیالات معلوم کرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہمیں لوگوں کے دستخطوں۔یہ معلوم ہو گیا کہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس امر پر متفق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے