انوارالعلوم (جلد 15) — Page 320
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) جائے گا اور اس دلیل کی بناء پر گلیلیو پر سخت ظلم کئے گئے اُسے قید کیا گیا ، پیٹا گیا یہاں تک کہ سالہا سال کے ظلموں کو برداشت نہ کر کے اس غریب کو یہ کہہ کر تو بہ کرنی پڑی کہ جو عیسائیت کہتی ہے وہ ٹھیک ہے شیطان نے مجھے دھوکا دیکر یہ دکھا دیا کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تب جا کر اُس کی تکلیف کسی قدر دور ہوئی لیکن قرآن کریم کو دیکھو وہ کس طرح شروع سے ہی فرما رہا ہے کہ والنجم والشَّجَرُ يَسْجُدُنِ ہم نے سورج اور چاند کو خاص قانون کے ماتحت بنایا ہے اور وہ اس قانون کی پابندی کر رہے ہیں اور زمین کی روئید گیاں آگے ان کے قانون کے تابع چل رہی ہیں۔اگر کوئی کہے کہ سورج کے گرد تو زمین چل رہی ہے، لیکن چاند تو زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہی تو قرآن کریم کا منشاء ہے کہ ایک گرہ جس کے تابع زمین ہے اس کو لے لیا گیا ہے اور ایک وہ جو زمین کے تابع ہے اُسے لے لیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ زمین دونوں سے متاثر ہو رہی ہے۔اس سے بھی جس کے گرد وہ گھومتی ہے اور اُس سے بھی جو اس کے رگر دگھومتا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ادنی بھی اعلیٰ پر اثر انداز ہوتا ہے اور ماتحت بھی حاکم پر اپنا اثر چھوڑتا ہے اس لئے طاقتور کو غرور سے کام نہیں لینا چاہئے اور کمزور سے آنکھیں نہیں بند کر لینی چاہئیں کیونکہ یہ اس سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ضرور ہے کہ اس کے اثر کو بھی قبول کرے پس اگر اس کی اصلاح نہ کرے گا تو خود بھی تباہ ہو گا اور اگر اسے نہ اُٹھائے گا تو خود بھی گرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہی یہ ہے کہ ہر ھے اپنے سے اعلیٰ اور اپنے سے ادنیٰ دونوں سے اثر قبول کرتی ہے اور حاکم اور محکوم دونوں اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔نظام ارضی نظام شمسی کا ایک حصہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں یہ قانون بیان کیا گیا ہے کہ نظام ارضی ایک وسیع نظام یعنی نظام شمسی کا ایک حصہ ہے اور یہ نہیں کہ سورج اس زمین کے گرد چکر کھاتا ہے اور اس کے تابع ہے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا کا عام خیال تھا۔دوسری بات یہ بتائی ہے کہ نظامِ شمسی ایک اور نظام کے تابع ہے جو اس سے بالا اور وسیع تر ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جو قرآن کریم کے زمانہ تک دنیا کے کسی فلسفی یا مذ ہبی شخص نے بیان نہیں کیا تھا بلکہ وہ سب کے سب نظام شمسی ہی کو اہم ترین اور آخری نظام سمجھتے تھے مگر قرآن کریم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ نظامِ شمسی ایک نے اور نظام کے تابع ہے جو اس سے بالا اور وسیع تر ہے۔