انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 216

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے ہم انہیں احمدیت سکھائیں اور اس طرح اس احسان کا بدلہ دیں جو انہوں نے اسلام کی اشاعت کی صورت میں ہم پر کیا۔پس خدا نے ہمیں احمدیت دیگر وہ ذریعہ عطا فرمایا ہے جو کسی اور قوم کو حاصل نہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں اشاعت احمدیت پر زور دیں اور کم از کم اس رسالہ کی اشاعت کو بکثرت بڑھائیں جو عرب ممالک میں احمدیت کی آواز پہنچانے کیلئے ہماری جماعت کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔اب میں تفصیلی طور پر اخبارات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اخبار’الفضل کو چلانے میں عملہ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور چونکہ وہ صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت ہے اس لئے صدرانجمن احمد یہ پر بھی بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ آج کل تجارتی زمانہ ہے اور اخبار کو تجارتی لائنوں پر چلانا چاہئے۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے اخبار چلانے کیلئے تجارتی رنگ اختیار نہیں کیا جاتا اور میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ جب تک تجارتی لائن اختیار نہیں کی جائے گی اس وقت تک اخبار والوں کو کامیابی نہیں ہوگی۔میں نے یورپ کے اخبار نویسوں کو دیکھا ہے۔ان کو خبر میں جمع کرنے کی اتنی حرص ہوتی ہے کہ بسا اوقات جن کا معاملہ ہوتا ہے انہیں اتنی خبر نہیں ہوتی جتنی اخبار والوں کو ہوتی ہے۔وہ بے شک بعض دفعہ جب ان کی قوم کا فائدہ ہو تو جھوٹ بھی بول لیتے ہیں مگر بالعموم سچائی سے کام لیتے ہیں اور خبریں جمع کرنے کیلئے انتہائی جد و جہد کرتے ہیں۔میں جب ولایت گیا تو باوجود یکہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے پھر بھی ہر اخبار کا نمائندہ ہمارے پاس آتا اور گرید گرید کر ہم سے حالات پوچھتا ہم برائٹن گئے تو اس اخبار کے نمائندے ہمارے ساتھ تھے۔پیرس گئے تو وہاں موجود تھے۔غرض دن رات ان اخبارات کے ایڈیٹر ہمارے حالات معلوم کرنے کیلئے پھرتے رہتے اور وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمارے اخبار کے ایڈیٹروں سے دس دس بیس بیس گنا زیادہ تنخواہ لینے والے ہوتے ہیں۔اسی طرح الفضل کا بھی کام ہے کہ وہ سلسلہ کی خبریں مہیا کرنے میں زیادہ مستعدی سے کام لے۔پھر میں جو خطبے پڑھتا ہوں اگر ان خطبوں کو ذہانت سے پڑھا جاتا ہو تو ہر شخص جانتا ہوگا کہ ہمیشہ میرا ایک خطبہ لمبا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا ہوتا ہے۔جس طرح باری کا بخار ا یک روز زیادہ زور سے چڑھتا ہے اور ایک روز کم ہو جاتا ہے اسی طرح ہمیشہ میرا ایک خطبہ لمبا ہوگا اور ایک چھوٹا۔