انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxii
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب (۱۵) احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکے گی حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے یہ مختصر خطاب مؤرخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۳۹ کوجلسہ سالا نہ قادیان کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔اس روح پرور اور ایمان افروز خطاب کے آغاز میں حضور انور نے غیر مبائعین میں سے بعض کے اس قسم کے دعووں کا ذکر فرمایا جن میں احمدیت کے چند سال کے اندراندر نیست و نابود ہو جانے اور عیسائیت کا غلبہ ہو جانے کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں اور فرمایا کہ یہ دعوے کرنے والے خود بھی گزر گئے اور اُن کے ساتھی بھی گزر گئے مگر احمدیت خدا کے فضل سے دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔۲۶ سال قبل یہاں چند سو آدمی جمع ہوتے تھے مگر آج خدا کے فضل سے ہزاروں افراد جمع ہیں۔آپ نے فرمایا کہ:۔وو یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مر گیا اور اُس کے ساتھی بھی مر گئے اُن کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جا پڑا مگر احمدیت زندہ رہی ، زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہ سکی اور نہ مٹا سکے گی۔عیسائیت کی کیا طاقت ہے کہ یہاں قبضہ جمائے ، عیسائیت تو ہمارا شکار ہے۔اس کے بعد حضور انور نے پوری دنیا میں احمدیت کی غیر معمولی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ سیرالیون میں ہر قسم کی مخالفت کے باوجود وہاں کے ۲ رئیس پانچ صد افراد کے ہمراہ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اور اس طرح يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کے نظارے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔آخر پر حضور انور نے بعض دعاؤں کی تحریک فرمائی خاص طور پر یہ دُعا کی کہ:۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نہ دے کہ جب ہم میں طاقت اور غلبہ آئے تو ہم ظالم بن جائیں یا سست اور عیش پرست ہو جا ئیں بلکہ پہلے سے زیادہ متواضع ، پہلے سے زیادہ رحم دل اور پہلے سے زیادہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کرنے والے ہوں“۔(اللَّهُمَّ امِيْنَ)