انوارالعلوم (جلد 15) — Page 64
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آیدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُس موسوی دور میں شریعت کی تکمیل ہوئی اور اُس کے معارف نے بڑھتے بڑھتے ایک زبر دست منتظم قانون کی شکل اختیار کر لی جس کی مثال پہلے کبھی نہ ملتی تھی لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کی نگاہ مغز سے ہٹ کر چھلکے کی طرف آ گئی اور دوسری طرف انسانی ذہن اب اس حد تک ترقی کر چکا تھا کہ اسے تصوف کا مزید سبق دیا جانا ضروری تھا۔پس عیسی آئے تا کہ ایک طرف تو رات کے احکام کو پورا کریں جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے۔یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں ، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کر نے آیا ہوں، ۵۲ اور دوسری طرف وہ لوگوں کو تو رات کے احکام کی حکمت سمجھا ئیں اور ان کی توجہ کو چھلکے سے ہٹا کر مغز کی طرف پھرا ئیں اور انہیں بتائیں کہ ظاہری شریعت صرف اس دنیا کی زندگی کو درست کرنے کیلئے اور باطنی شریعت کے قیام میں مدد دینے کیلئے ہے۔ورنہ اصل شئے صرف باطنی صفائی اور پاکیزگی اور تقدس ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے یہ کام لیا۔انہوں نے ایک طرف موسوی احکام کو دوبارہ اصل شکل میں قائم کیا اور دوسری طرف جو لوگ قشر کی اتباع کرنے والے تھے انہیں بتایا کہ اس ظاہر کا ایک باطن بھی ہے۔اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔نمازیں بڑی اچھی چیز ہیں لیکن اگر تم صرف ظاہری نماز ہی پڑھو گے باطنی نماز نہیں پڑھو گے تو وہ نماز لعنت بن جائے گی ، روزہ بڑی اچھی چیز ہے لیکن اگر تم ظاہری روزہ کے ساتھ باطنی روزہ نہ رکھو گے تو یہ ظاہری روزہ لعنت بن جائے گا۔یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ فويل للمصلين ۵۳ یعنی بعض نماز پڑھنے والے ایسے ہیں کہ نماز اُن کیلئے ویل اور لعنت بن جاتی ہے۔مسلمانوں کو رسول کریم اللہ نے چونکہ پوری بات کھول کر بتا دی تھی اس وجہ سے اُنہیں دھوکا نہ لگا۔یہ کھول کر بتانا بھی عیسی علیہ السلام کی پیشگوئی کے ماتحت تھا کہ انہوں نے کہا تھا۔دو لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی۔۵۴ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کو واضح کر دینے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ آپ نے بھی وہی بات کہی تھی جو مسیح علیہ السلام نے کہی تھی مسلمانوں کو دھوکا نہ لگا اور انہوں نے شریعت