انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 63

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی نظام پر حاوی تھا گو اعلیٰ تفصیلات کے لحاظ سے اس میں بھی نقص تھا۔تیسرا انقلاب بالمشافہ وحی الہی تیسرا انقلاب جو موسی کے ذریعہ سے پیدا ہوا۔وہ یہ ہے کہ موسیٰ کے زمانہ تک وحی الہی کا طریق بھی تبدیل ہوتا چلا گیا اور اب بالمشافہ وحی کا طریق جاری ہوا کیونکہ شریعت کی جزئیات پر بحث ہوئی تھی اور اس کیلئے لفظی وحی کی ضرورت تھی تا کلام محفوظ رہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا ھے کہ موسیٰ کے ساتھ اکثر بالمشافہ وحی ہوتی تھی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلوں سے بالمشافہ کلام نہ ہوتا تھا بلکہ یہ مطلب ہے کہ پہلے زیادہ تر رؤیا و کشوف پر مدار تھا اور اسی ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیب کی خبر میں اپنے نبیوں پر ظاہر کیا کرتا تھا۔مگر موسیٰ کی شریعت کا اکثر کلام بالمشافہ ہوا اور رویا و کشوف کی کثرت کی جگہ لفظی کلام کی کثرت نے لے لی لیکن ابھی تک معنی محفوظ قرار دیئے جاتے تھے کلام محفوظ نہیں قرار دیا جاتا۔جیسے ہم زید سے جب بات کرتے ہیں تو لفظوں میں کرتے ہیں اور اس طرح اُسے ہماری بات کے سمجھنے میں بہت کم محبہ ہو سکتا ہے مگر ہم اپنے الفاظ اُسے یاد نہیں کراتے بلکہ جو مطلب اس کے دماغ میں آتا ہے اس کے مطابق وہ کام کرتا ہے لیکن اگر ہم اپنے الفاظ کی زیادہ احتیاط کرانا چاہیں تو پھر ہم لکھوا دیتے ہیں یہی فرق قرآنی وحی اور موسیٰ کی وحی میں ہے۔موسیٰ کے زمانہ میں ابھی یہ حکم نہیں تھا کہ جو الفاظ سُنو وہی لکھو۔بلکہ جو الفاظ ہوتے اُن کے مطابق ایک مفہوم لے کر کتاب میں درج کر دیا جاتا۔مگر قرآنی وحی کے نزول کے وقت اُس کی زبر، اُس کی زیر ، اُس کی پیش اور اُس کی جزم تک وحی الہی کی ہدایت کے ماتحت ڈالی گئی۔موسوی دور کے بعد اب عیسوی دور کا پیغام احیائے شریعت موسوی عیسوی دور شروع ہوتا ہے اور عیسوی دور ہی وہ پہلا دور ہے جو تاریخی طور پر اس آیت کے دوسرے حصہ کے ماتحت آتا ہے که ماننسخ من أيّةٍ اَوْ تُنْسِهَا نَاتِ بِخَيْرٍ منها آذر مثلها کہ ہمارے احکام جب لوگوں کے ذہنوں سے اُتر جاتے ہیں تو ہم ویسے ہی احکام پھر اُتار دیتے ہیں یعنی دوبارہ اُن کو زندہ کر دیتے ہیں۔اس زمانہ میں ایک ایسا نبی آیا جو نئی شریعت نہیں لایا بلکہ تو رات کے بعض مضامین کو اس نے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق