انوارالعلوم (جلد 15) — Page 58
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی جب انسان کی قربانی رڈ کی گئی تو اس تمدن کامل کی بنیا دابراہیم سے پڑھی نے انسانی دماغ کو اس طرف بھی مائل کر دیا کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اور جب یہ خیال پیدا ہوا تو ساتھ ہی قانون قدرت پر بار یک در بار یک غور بھی شروع ہوا اور تمدن کے کمال کی طرف انسانی توجہ مائل ہو گئی ۔ پس تمدن انسانی کے کمال کا دور بھی حقیقی طور پر ابراہیم کے زمانہ میں شروع ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دور سے پہلے انسان صرف ایک مُحِب کی شکل میں تھا اور اس کے ذہن میں محبوبیت کا خیال پیدا نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اس کی نامکمل ترقی کو دیکھتے ہوئے خوف کیا جاتا تھا کہ وہ سست اور غافل نہ ہو جائے کیونکہ ابھی اس کا دماغ اس بار یک فلسفہ کو برداشت کرنے کے قابل نہ تھا لیکن ابراہیم کے وقت میں وہ اس قابل ہو چکا تھا کہ اس پر یہ راز کھولا جائے چنانچہ ابراہیم نے انسان کے محبوب الہی ہونے کے فلسفہ کو پیش کیا اور چونکہ محب محبوب کی جان کا ضیاع پسند نہیں کرتا اس لئے اس کی قربانی رڈ کی گئی گویا یہ تصوف کا پہلا دور تھا ۔ اسی طرح ابراہیم کا دور فلسفہ حیات انسانی کے سمجھنے کا دور تھا کیونکہ اُس وقت یہ نظریہ انسان کے سامنے رکھا گیا کہ یہ زندگی عبث اور فضول نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک عظیم الشان نعمت ہے اور آئندہ ترقیات کے لئے ذخیرہ جمع کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اس کے بعد دورِ موسوی شروع ہوا کہ یہ دور ایک موسوی دور اور اُس کا پیغام کی تبدیلی اور نیا انقلاب کے کر آیا یعنی اب دین اور دنیا کو ملا دیا گیا اور کفر اور اسلام میں امتیاز پیدا کر دیا گیا ۔ آدم کے زمانہ میں صرف تمدن تک بات تھی ، نوح کے زمانہ میں شرک اور توحید میں ابتدائی امتیاز قائم ہوا اور ایک محدو د شریعت کی بنیاد پڑی ، ابراہیم کے زمانہ میں توحید کامل کی گئی مگر موسوی زمانہ میں انسانی ذہن میں اس حد تک ترقی ہو چکی تھی کہ اب ضرورت تھی کہ دین و دنیا کے قواعد پر مشتمل ایک ہدایت نامہ نازل ہو۔ گویا ایک ہی وقت میں مذہب، دین اور دنیا دونوں کا چارج لے لے۔ پھر اس زمانہ میں گفر و اسلام میں امتیاز پیدا کر دیا گیا تھا۔ موسٹی سے پہلے کفر و اسلام میں امتیاز نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کافروں کی بیٹی لے لیتے اور ان سے تعلقات رکھتے مگر موسوی دور میں دین حق نے علیحدہ ا ہ اور ممتاز صورت ا اختیار کر لی تھی جیسے آدم آدم اور نوح کے زمانہ میں انسان نے ممتاز درجہ اختیار کر لیا تھا۔ اب تفصیلی ہدایت کی ضرورت تھی جن کا تعلق تمدن، سیاست اور