انوارالعلوم (جلد 15) — Page 55
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی رنگ دے دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بار بار کہا گیا ہے کہ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۳۹ اور نوح کی نسبت یہ ایک دفعہ بھی نہیں آیا۔ کیونکہ زمانہ نوٹ ، کامل شرک کا نہ تھا۔ صرف سطحی شرک میں لوگ مبتلا تھے۔ جس سے بچنا زیادہ عقل نہیں چاہتا تھا اور بتوں کے آگے جھکنے یا نہ جھکنے کے مسئلہ کو ہر شخص سمجھ سکتا تھا۔ لیکن ابراہیم کے وقت میں شرک ظاہری رسوم سے نکل کر باطنی رسومات کی حد تک پہنچ گیا تھا اور باوجود بتوں کے آگے نہ جھکنے کے بوجہ فلسفہ کی ترقی کے اور فکر کی بلندی کے ذہنی شرک کی ایک اور قسم پیدا ہو گئی تھی جس کا قلع قمع ابراہیم نے کیا۔ پس ایسے زمانہ میں جو موحد کامل ہوا چونکہ وہی ما كان ابراہیمی تحریک کا کا پیغام منَ الْمُشْرِكِينَ کے خطاب کا مستحق ہو سکتا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے گئے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق استعمال نہ کئے گئے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ نوح اعلیٰ موحد نہ تھا۔ چنانچہ دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پانچ دفعہ قرآن شریف میں ذکر ہے اور پانچوں جگہ آپ کے متعلق وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِين کے الفاظ آتے ہیں لیکن نوح کے متعلق یہ الفاظ نہیں آتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گو اپنے زمانہ میں نوح نے شرک کا مقابلہ کیا مگر چونکہ کامل شرک اُس وقت رائج نہیں تھا اس لئے وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ کے نام سے آپ کو پکارنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ بوجہ عبادت اوثان سے اجتناب کرنے کے ہر شخص جانتا تھا کہ آپ مشرک نہیں ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے سوئی سے ہر عورت کام کر سکتی ہے مگر ہر عورت درزی نہیں کہلا سکتی کیونکہ درزی کے لئے اپنے فن میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح نوح کے متعلق گو ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے شرک کا مقابلہ کیا مگر ابراہیم کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ شرک کا مقابلہ آپ کا پیشہ اور فن بن گیا تھا اس لئے آپ کے متعلق کہا گیا کہ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ غرض ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں علاوہ ظاہری شرک کے ایک اور شرک جو ذہنی اور فلسفی تھا پیدا ہو گیا تھا۔ اُس وقت صرف یہی شرک نہ رہا تھا کہ بعض لوگ بتوں کے آگے سر جھکاتے تھے بلکہ محبت اور بغض کی باریک راہوں پر غور کر کے انسانی احساسات بہت ترقی کر گئے تھے اور اب بغیر ظاہری شرک کرنے کے بھی انسان ذہنی طور پر مشرک ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو یہ نہیں کہا کہ اسلیم کے اور اُس نے جواب میں کہا ہو اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ البلكه ابراهيم