انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 54

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی انسانی دماغ ترقی کر کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا تھا کہ اس کے لئے اس قسم کی رہنمائی کی ضرورت تھی۔چنانچہ حدیث میں جو آتا ہے کہ اول نبي شرعت على لسانه الشرائع اس کے مضمون کا قرآن شریف سے بھی پتہ چلتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا او حينا اليك كما أوحينا إلى نُوْمِ وَالنّبِينَ مِنْ بَعْده : ۳۸ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے تیری طرف جو وحی نازل کی ہے یہ ویسی ہی وحی ہے جیسی وحی نوح اور اسکے بعد کے انبیاء کی طرف نازل کی گئی تھی۔گویا پہلی وحی عقائد کی نسبت نوح کو ہوئی تھی اور سب سے پہلے تفصیلات صفات الہیہ کا دروازہ اس پر کھولا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک انسانی دماغ بہت ترقی کر گیا تھا اور اس نے صفاتِ الہیہ کا ادراک کرنا شروع کر دیا تھا۔اور اس فکر میں ٹھوکر کھا کر اس نے شرک کا عقیدہ ایجاد کر لیا تھا۔چنانچہ شرک کا ذکر قرآن کریم میں نوح کے ذکر کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔پس نوح اول شارع نبی تھے۔ان معنوں میں کہ ان کے زمانہ میں انسان روحانیت کی باریک راہوں پر قدم زن ہونے لگ گیا تھا اور اُس کا دماغ مافوق الطبعیات کو سمجھنے کی کوششوں میں لگ گیا تھا۔اس کے بعد تیسرا دور ابراہیم کا ہے۔گونوح کے متعلق تیسرا دور۔ابراہیمی تحریک قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے زمانہ میں شرک ہو چکا تھا اور اس نے شرک کو سختی سے روکا۔لیکن در حقیقت وہ دور صفات الہیہ کے احساس کا ابتدائی دور تھا اور شرک بھی صرف بسیط شکل میں تھا۔بعض لوگ بزرگوں کے مجھسے پوجنے لگ گئے تھے۔بعض اور نے کوئی اور سادہ قسم کا شرک اختیار کر لیا تھا مگر ابراہیم کے زمانہ میں شرک ایک فلسفی مضمون بن گیا تھا اور اب عقلوں پر فلسفہ کا غلبہ شروع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ تو حید کی بار یک راہیں نکل آئی تھیں جن پر عمل کرنا صرف تو حید کے موٹے مسائل پر عمل کرنے سے بہت مشکل تھا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بُت پرستی دنیا میں آج بھی موجود ہے۔مگر آج جب بُت پرستوں کو کہا جاتا ہے کہ تم کیوں بُت پرستی کرتے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم تو کوئی بت پرستی نہیں کرتے۔ہم تو صرف اپنی توجہ کے اجتماع کے لئے ایک بُت سامنے رکھ لیتے ہیں۔گویا شرک تو وہی ہے جو پہلے تھا مگر آب شرک کو ایک نیا رنگ دے یا گیا ہے۔اسی طرح ابراہیم کے زمانہ میں شرک کو نیا