انوارالعلوم (جلد 15) — Page 53
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی مادہ پیدا ہوا اور بعض لوگ نہایت ذہین ثابت ہوئے اور بعض گند ذہن نکلے۔کوئی اپنے کام میں نہایت ہی ہوشیار ثابت ہوا اور کوئی نکتا، کوئی اپنی لیاقت کی وجہ سے بہت آگے نکل گیا اور کوئی پیچھے رہ گیا کیونکہ مختلف انسانوں کے قومی میں تفاوت تو ہوتا ہی ہے مگر اس کا ظہور تمدن کی زندگی میں ہوتا ہے اور جس قدر تمدن پیچیدہ اور لطیف ہوتا جائے اسی قدر انسانی قابلیتوں کا تفاوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔اگر دو متفاوت القویٰ انسانوں کو ادنی تمدن کے دائرہ میں کام پر لگایا جائے تو گو تفاوت ظاہر ہو گا مگر اس قدر نمایاں نہیں ہو گا جس قدر کہ اس وقت جبکہ انہیں کسی اعلیٰ حمدن کے ماتحت کام کرنا پڑے۔اعلیٰ تمدن میں تو بعض دفعہ اس قدر فرق ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اعلیٰ قابلیت کا آدمی کسی اور ہی جنس کا نظر آنے لگتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی آدم کے دور کے آخر میں ظاہر ہونے لگا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو آدمی معمولی تھے انہوں نے بعض آدمیوں کو خاص قابلیتوں کا مالک متصور کر لیا اور چونکہ علم النفس کا فلسفہ ابھی ظاہر نہ ہوا تھا اور علم کی کمی کی وجہ سے اس زمانہ کے لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ سب انسان ایک سے ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان میں سے اعلی طاقتوں کا مالک ہے تو ضرور اُسے کوئی اور طاقت جو انسانیت سے بالا ہے حاصل ہے۔گناہ کی ترقی کس طرح ہوئی اس لئے ان لوگوں میں پہلا احساس شرک کا پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے میں سے بعض کو خدائی طاقتوں سے متصف خیال کر لیا اور یہ خیال کرنے لگ گئے کہ فلاں آدمی جو اتنا قابل ، اتنا مد تبر ، اتنا سمجھدار اور اتنا عالم تھا وہ آدمی نہیں بلکہ خدا تھا۔اگر آدمی ہوتا تو اس کی قابلیتیں ہم سے زیادہ نہ ہوتیں اور اس طرح شرک کی ابتداء ہوئی۔جب مادۂ فکر کے ترقی کر جانے کے سبب سے ایک طرف تو شرک کی بیماری لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی اور دوسری طرف انسان میں وہ گناہ پیدا ہونے لگے جو تمدن کا لازمی نتیجہ ہیں اُس وقت اللہ تعالیٰ نے نوح کو بھیجا۔گویا یہ تہذیب الہی کا دوسرا دور تھا جو نواح دور ثانی کا پیغام۔نزولِ شریعت سے شروع ہوا۔نوح اُس وقت آئے جب صفات الہیہ کا لوگوں کے دلوں میں احساس پیدا ہو گیا تھا اور صفاتِ الہیہ کے احساس کے بعد ہی شریعت کا احساس پیدا ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نوح کے متعلق فرمایا کہ اَوَّلُ نَبِي شَرَعَتْ عَلَى لِسَانِهِ الشَّرَائِعُ کہ نوح وہ پہلا نبی تھا جس پر ے شریعت کا نزول ہوا اور تمدنی قواعد کو ایک با قاعدہ قانون کا رنگ چڑھایا گیا کیونکہ اس زمانہ میں