انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 52

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اس کے لئے خوراک مہیا کرے، پانیوں اور تالابوں کا انتظام کرے اور مکانوں کا انتظام کرے۔گویا کھانا، پانی، مکان اور کپڑا یہ چاروں چیزیں حکومت کے ذمہ ہیں اور یہ چاروں باتیں إن لك الا تجوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَى وَانَّكَ لا تظموا فيها ولا تضحى ٣٦ میں بیان تَضْحَى کی گئی ہیں۔کہ اے آدم! اگر لوگ اعتراض کریں تو تو انہیں کہدے کہ حکومت کا پہلا فائدہ یہ ہو گا کہ تم بھو کے نہیں رہو گے۔چنانچہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ خواہ کوئی جنگل میں پڑا ہو اس کے لئے کھانا مہیا کرے۔ولا تغری اور پھر تم ننگے بھی نہیں رہو گے کیونکہ تمہارے کپڑوں کی بھی حکومت ذمہ وار ہو گی۔اسی طرح لا تظموا میں بتایا کہ حکومت تمہارے پانی کی بھی ذمہ وار ہے۔اور ولا تضحی میں بتایا کہ تمہارے لئے مکانات بھی مہیا کئے جائیں گے اور جس حکومت میں یہ چاروں باتیں ہوں وہ نہایت اعلیٰ درجہ کی مکمل امن والی حکومت ہوا کرتی ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بیشک انفرادی آزادی پر پابندی گراں ہے لیکن تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ نظام کے لئے کچھ پابندیاں قبول کرو کیونکہ اس کے بغیر نہ بھوک پیاس کا نہ لباس و مکان کا اور نہ دائی امن یعنی جنت کا انتظام ہو سکتا ہے، پس یہ قیود خود تمہارے فائدہ کے لئے ہیں۔غرض آدم کے وقت تک انسان کا دماغ پورا نشو ونما نہیں پا چکا تھا اور گناہ بھی پورے ایجاد نہ ہوئے تھے سوائے چند ایک کے۔پس ان کے لئے کچھ احکام دے دیئے گئے اور وہ اسی قدر تھے جس قدر کہ نظام حکومت کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس لئے آدم کے متعلق سارے قرآن کریم میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ وہ مسائل شرعیہ کی طرف لوگوں کو بلاتا تھا۔جہاں ذکر آتا ہے انہی چار چیزوں کا آتا ہے۔پس حضرت آدم نے صرف دنیا کو متمدن بنایا مگر یہ اُس وقت کے لئے ایک انقلاب تھا اور در حقیقت عظیم الشان انقلاب که دنیا کا موجودہ تمدن اسی کا نتیجہ ہے۔دور ثانی۔نوح کی تحریک اس کے بعد دوسرا دور آیا جب آہستہ آہستہ آدم کے متبع افراد نے ترقی کی اور انہوں نے دنیا میں کار ہائے نمایاں سرانجام دینے شروع کر دیئے اور انسانی تمدن ترقی کرنے لگا اور انسان کو تمدن سے جو وحشت ہوا کرتی تھی وہ جاتی رہی اور وہ اس بات کا عادی ہو گیا کہ انفرادی آزادی قربان کر کے مجموعی رنگ میں قوم کے فائدہ کے لئے قدم اُٹھائے۔اس کے نتیجہ میں مسابقت کا