انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 600

انوار العلوم جلد ۱۵ امة الودود میری بچی اس نام کی بچی مر گئی تھی ۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ وہ بھی مر گئی اس کے بعد منور احمد پیدا ہوا اور پھر لڑکی پیدا ہوئی اور میں نے اس کا نام پھر امۃ العزیز رکھا۔ اس کی والدہ نے بڑا ہی زور لگایا کہ یہ نام نہ رکھو لیکن میں نے نہ مانا اور کہا کہ اگر لڑکی کے بعد لڑ کی مرتی جائے گی تب بھی میں امۃ العزیز ہی نام رکھتا جاؤں گا تا کہ خدا تعالیٰ کے نام پر کوئی حرف گیری نہ کر سکے ۔ آخر وہ لڑکی زندہ رہی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب اس کا نکاح عزیزم مرز احمید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ سے ہوا ہے۔ بچپن کے بعد صحت اچھی ہو گئی غرض اس بچی کی صحت بچپن میں بہت خراب رہتی تھی اور تشیخ کے دورے ہوتے تھے۔ تھے۔ پھر صحت اچھی ہوگئی اور ابھی دو ماہ کی بات ہے میری چھوٹی بیوی اس کی ”چھوٹی آپا بیمار تھیں ۔ وہ خبر پوچھنے آئی ۔ اس سے پہلے دن عزیزم ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بچہ پیدا ہوا تھا وہیں صدیقہ بیگم کو بخار ہوا اور ایک سو پانچ تک ہو گیا ۔ امۃ الودود کہنے لگی کہ میں نے سمجھا تھا غلطی لگی ہے ایک سو پانچ درجہ کے بخار میں یہ وہاں چلتی پھرتی کس طرح تھیں ۔ میں نے کہا ڈو دی تم کو کیوں تعجب ہوا تمہارے گھر میں تو بخار کا اوسط درجہ ایک سو سات اور ایک سونو کے درمیان ہوتا ہے ۔ ( مرحومہ کے بھائیوں کو بخار ایک سوسات یا اس سے زیادہ بھی ہو جاتا ہے ) اس پر اس نے کہا کہ مجھے کیا معلوم مجھے تو نہ کبھی سرد سردرد ہو درد ہوتا ہے اور نہ اور نہ بخار۔ مجھے یہ سنتے ہی خیال آیا کہ بعض اطباء نے لکھا ہے کہ ایسی صحت بھی اچھی نہیں ہوتی اور ایسے لوگوں کو بعض دفعہ یکدم بیماری کا حملہ ہوتا ہے اور اس کے سامنے بھی میں نے اس خیال کا اظہار کیا ۔ کسے معلوم تھا کہ اطباء کا یہ خیال درست ہو یا غلط مگر اس بچی کے حق میں دو ماہ کے اندر پورا ہو جائے گا۔ تعلیم کا شوق پیدا ہوا اور وہ برا برتع ر تعلیم میں تعلیم کا شوق صحت کی درستی کے بعد سے اسے تعلیم کا وہی ہوا میں جاتی ہے بڑھتی گئی ۔ انٹرنس تک تو مجھے خیال رہا کہ یوں ہی مدرسہ میں جاتی ہے لیکن جب وہ انٹرنس میں اچھے نمبروں پر پاس ہوئی تو مجھے زیادہ توجہ ہوئی اور جب وہ ملتی میں اس سے اس کی تعلیم کے متعلق بات کرتا ۔ پھر ایف اے میں وہ پاس ہوئی اور میں نے زور دیا کہ صدیقہ بیگم اور امۃ الودود بی ۔ اے کا امتحان دیں اور دونوں نے تیاری شروع کر دی ۔ مگر پہلی دفعہ کامیاب نہ ہوئیں ، پھر دوسری دفعہ پڑھائی کی ، پھر بھی کامیاب نہ ہوئیں ، میں نے اصرار کیا کہ امتحان دیتے جاؤ چنانچہ اس دفعہ پھر تیاری کی ۔ جب امتحان کے دن قریب آئے عزیزہ کے منجھلے بھائی عزیزم مرزا ظفر احمد بیرسٹرایٹ لاء اپنی شادی کے لئے قادیان آئے ۔ امتحان کے دنوں میں