انوارالعلوم (جلد 15) — Page 595
انوار العلوم جلد ۱۵ امته الود و د میری بچی رشتہ داروں میں ایسے رشتے بہت ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ فرق پر بھی ہو جاتے ہیں۔میری ایک بچی نے یہ سنا تو مجھ سے کہنے لگی کہ عمر کے اتنے فرق پر یہ رشتہ کس طرح ہو سکتا ہے۔میں نے جواب دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ سے شادی کی تو وہ آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔بچی ہی تو تھیں اس نے آگے سے جواب دیا کجا خلیل اور گجا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔میں نے بھی جواب میں کہا کہ گجا امتہ الود و داور گجا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مگر یہ بات اپنے ہی گھر تک رہی۔میں نے چاہا کہ میں لڑکی کے اخلاق کا مطالعہ گہرے امۃ الودود کے اخلاق کا مطالعہ طور پر کروں۔ماں کی طرف سے اس کا رشتہ کوٹلہ کے نوابوں سے پڑتا ہے ایسا نہ ہو اس میں کوئی رگ امارت کی ہو جو بعد میں باعث تکلیف ہو۔چنانچہ اسی غرض سے میں زور دے کر اسے اور عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کو جو اس کے بھائی اور میرے بھتیجے اور داماد ہیں اپنے ساتھ کراچی لے گیا، وہاں میں نے اسے ہر رنگ میں آزمایا، ایک دوسرے کے جو ٹھے پانی پلائے ، زمین پر بٹھا کر کھانا کھلایا ، گھر کی صفائی کے کام میں شامل کیا ، غرض کئی مواقع پر ایسے کام کرائے جو عام طور پر امیر خاندانوں میں بُرے سمجھے جاتے ہیں اور اس نے نہایت سادگی سے سب ہی کاموں کو خوشی سے کیا اور میں نے محسوس کیا کہ اس کا دل غریب ہے اور عادات فقیرانہ ہیں۔یہ اس کا پہلا ہی سفر میرے ساتھ تھا بلکہ ساری عمر میں اسے سیر کا یہ پہلا ہی موقع ملا تھا مگر اس نے اس بے تکلفی سے وہ دن گزارے کہ وہ کبھی میرے لئے بوجھ محسوس نہ ہوئی اور میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ اس کے والدین مانیں یا نہ مانیں میں عزیزم خلیل احمد سلمہ اللہ کی طرف سے ضرور درخواست دے دونگا۔اس عرصہ میں میں نے خود بھی استخارہ کیا اور بعض دوسروں سے بھی کرایا۔چونکہ اسے تھوڑے امت الودود کے متعلق خواہش کی تکمیل کیلئے کوشش بھی اس تھی۔دنوں کی اجازت وہ تو چند دن پہلے اپنے بھائی کے ساتھ کراچی سے آ گئی اور ہم چند دن بعد وہاں سے واپس آگئے۔واپسی پر میں نے حضرت ام المؤمنین سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔انہوں نے جو روکیں ہوسکتی ہیں ان کا ذکر کیا اور خطرہ ظاہر کیا کہ کہیں انکار کی صورت میں آپس میں بدمزگی پیدا نہ ہو۔میں نے انہیں تسلی دلائی کہ ایسا ہر گز نہ ہوگا اگر بچی کے ماں باپ کو رشتہ نا پسند ہوا تو میں ہرگز بُرا نہ