انوارالعلوم (جلد 15) — Page 594
انوار العلوم جلد ۱۵ امته الودود میری بچی وہ دوسری چیزوں کو دبا دیتی ہے اور جب تینوں جمع ہو جائیں تو جذبات بھی شدید ہو جاتے ہیں۔دودی میری بھیجی تو تھی مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اسے میرے دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی۔بعد کی نسلیں تو الگ رہیں میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارے تھے۔امتہ الودود کی سہیلی یہ میری بھولی بھالی بچی مجھے بچپن سے ہی بہت پیاری تھی۔اس کی اور ایک میری بھانجی ہے زکیہ ان دونوں کی شکلیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں۔جب عید وغیرہ کے موقع پر سب بچے اماں جان کے گھر میں جمع ہوتے تھے تو میں ان دونوں کو خاص طور پر پیار کیا کرتا تھا اور یہ دونوں دوسروں پر فخر کا اظہار کیا کرتی تھیں۔ایک کہتی ماموں جان مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسری کہتی ، چا ابا مجھے زیادہ چاہتے ہیں۔پھر جب یہ بچیاں بڑی ہوئیں تو امتہ الودود کی علمی لیاقت نے میری توجہ کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔اسی دوران میں اس کی دوسری سہیلی ” چھوٹی آپا یعنی مریم صدیقہ کی میرے ساتھ شادی ہو گئی۔یہ دونوں ایک ہی سال اور ایک ہی مہینہ میں پیدا ہو ئیں تھیں، اکٹھی پڑھتی رہیں۔ایف۔اے اکٹھا پاس کیا اور نمبر بھی ایک ہی جتنے تھے۔پھر بی۔اے کا امتحان دیا اور دونوں فیل ہوئیں۔پھر دوبارہ بی۔اے کا امتحان دیا اور پھر دونوں فیل ہوئیں۔اس سال پھر دونوں نے بی۔اے کا امتحان دیا اور دونوں پاس ہو گئیں۔اس شادی کے بعد چونکہ دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق تھا، امۃ الودود کی بھی مجھ سے بے تکلفی بڑھ گئی اور مجھے اس کے اخلاق کے دیکھنے کا زیادہ موقع ملا۔امتہ الودود کے متعلق خواہش اُس وقت میرے دل میں یہ خواہش زور سے پیدا ہوئی کہ امتہ الودود کی شادی میرے بچوں میں سے کسی کے ساتھ ہو جائے مگر جوان بچوں کے ارادے پہلے سے دُوسری جگہ ہو چکے تھے اس لئے میں کامیاب نہ ہو سکا اور جب لڑکے راضی نہ تھے تو درخواست دینا بے معنی امر تھا۔اس عرصہ میں اُس کے بعض رشتے آئے جنہیں پسند نہ کیا گیا۔سب سے آخر میں جس رشتہ کو رڈ کیا گیا وہ گھر کا ہی تھا۔کوئی پانچ ماہ کا عرصہ ہوا اس کے ذکر کے سلسلہ میں میری ہمشیرہ نے ذکر کیا کہ دودی کے نانا کہتے تھے کہ میں گھر کے رشتہ کو پسند کرتا ہوں۔اگر بڑے لڑکوں کی شادیاں ہو چکی ہیں تو عمر میں چھوٹے ہی سے سہی۔یہ فقرہ سنتے ہی میری دیرینہ خواہش پھر عود کر آئی اور میں نے ہمشیرہ سے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر میری بھی خواہش ہے۔عزیزم خلیل احمد کو چھ سال عمر میں چھوٹا ہے مگر