انوارالعلوم (جلد 15) — Page 590
انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک پچھلے چھ ماہ میں اس جنگ کے حالات مجھ پر ظاہر کئے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اب وہ باتیں پوری ہو رہی ہیں بعض باتیں چونکہ ایسی ہوتی ہیں جن کا قبل از وقت شائع کرنا مناسب نہیں ہوتا اس لئے میں نے چند دوستوں کو وہ خوا ہیں سنا دی ہیں تا کہ وقت پر وہ ان خوابوں کے پورا ہونے کے گواہ رہیں ۔ اب بھی میں سفر سے واپسی پر ریل میں آرہا تھا کہ میں نے پھر دعا کرنی شروع کر دی۔ دعا کرتے کرتے چند سیکنڈ کیلئے غنودگی کا ایک جھٹکا آیا جیسا کہ الہام کے وقت غنودگی آتی ہے۔ کشفی حالت میں ایک بادشاہ میرے سامنے سے گزارا گیا پھر الہام ہوا ایب ڈی کیٹڈ (ABDICATED) میں اس کی تعبیر یہ سمجھتا ہوں کہ یا تو کوئی بادشاہ ہے جو اس جنگ میں معزول کیا جائے گا یا کسی معزول بادشاہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دوبارہ دنیا میں کوئی تغیر پیدا کرے گا۔ اسی طرح انگلستان پر جرمن حملہ کی اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خبر دے دی تھی ۔ یہ عجیب بات ہے کہ آج حکومت برطانیہ کے وزراء یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سے پہلے انگلستان پر حملہ بالکل ناممکن سمجھتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے کئی ماہ پہلے مجھے یہ خبر دے دی تھی ۔ چنانچہ ابھی انگلستان پر حملے کا کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا انگلستان ایسے خطرہ میں گھر گیا ہے کہ قریب ہے وہ جرمن کا غلام ملک ہو جائے اور اس نے اس خطرہ کی حالت میں بعض دوسرے ملکوں سے امداد کی درخواست کی ہے۔ ان دنوں میں دھرم سالہ میں تھا اور ابھی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی تھی ۔ عزیزم مظفر احمد بھی ان دنوں وہیں تھے اور میں نے انہیں اور بعض دوسرے دوستوں کو یہ خواب سنا دی تھی ۔ غالباً جولائی یا اگست کے مہینہ کی یہ بات ہے اور ستمبر میں لڑائی شروع ہوئی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان امور کے متعلق مجھ پر بہت سے انکشافات کئے ہیں لیکن ان کی تشریحات میں مناسب نہیں سمجھتا مگر با وجود ان تمام باتوں کے میرا قلب محسوس کرتا ہے کہ انگلستان کی بھلائی میں ہماری بھلائی ہے کیونکہ رویا میں میں نے جب بھی انگلستان کو مشکلات میں مبتلاء دیکھا ہے میں نے یہی کوشش کی ہے کہ انگریزوں کے علاقہ میں چلا جاؤں ۔ پس میں سمجھتا ہوں اس قوم سے ابھی ہماری قوم کے فوائد وابستہ ہیں اور اس لحاظ سے ان کی فتح ہی ہمارے لئے مفید ہے اور مجھے تو یقین کامل ہے کہ اگر یہ سچے طور پر توحید کا اقرار کر کے مجھ سے دعا کی درخواست کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی فتح کے سامان پیدا کر دے گا لیکن ابھی انہیں اپنی طاقت پر بہت گ بہت گھمنڈ ہے اور ان کے لئے یہ ماننا سخت مشکل ہے کہ قادیان میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کی دعا سے ہٹلر کی فوجیں بھاگ سکتی