انوارالعلوم (جلد 15) — Page 589
انوارالعلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نے جب اس دیوار کو گرتے دیکھا تو پھر بنا دیا۔اب دیوار کو دوبارہ کھڑا کر دینے کے معنی یہ تھے کہ وہ خزانہ پھر دب جائے اور ظاہر نہ ہونے پائے پس حضرت موسی اور ان کے ساتھی نے دیوار بنادی اور خزانہ کو پوشیدہ کر دیا کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے اس دیوار کے بنانے میں حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا وہ خزانہ قبل از وقت ننگا نہ ہو جائے بلکہ اس وقت تک دبا ر ہے جب تک لڑکے اپنی جوانی کو نہیں پہنچتے تا کہ جب وہ جوان ہو جائیں تو وہی اس خزانہ پر قابض ہوں کوئی دوسرا اس پر قبضہ نہ جمالے۔اسی طرح بظاہر حالات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز اور فرانسیسی وہ دیوار ہیں جس کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اُس وقت تک قائم رہے جب تک خزانہ کے اصل حقدار جوان نہیں ہو جاتے۔ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانہ پر قبضہ نہیں کر سکتی اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جما لیں گے۔پس اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم پھر ایسی دیوار کو بنا دیں تاجب احمدیت اپنی بلوغت کا ملہ کو پہنچ جائے تو اس وقت وہ اس خزانہ کو سنبھال لے۔دنیا داروں کی نگاہ میں بے شک یہ عجیب بات ہے مگر جو بات خدا تعالیٰ کے حضور مقدر ہے وہ عجیب نہیں اور وہی طبعی اور حقیقی فیصلہ ہے۔پس اس وقت اتحادیوں کا ضعف احمدیت اور اسلام کے لئے بظاہر خطرناک ہے۔یوں اللہ تعالیٰ چاہے تو دلوں کو بدل بھی سکتا ہے۔ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تھا مگر اسی کی اولاد بعد میں مسلمان ہوگئی۔اسی طرح کیا تعجب ہے کہ ہٹلر پہلے دنیا کو فتح کرے اور پھر اللہ تعالیٰ اُسے مسلمان بنادے۔لیکن مؤمن کا انحصار خیالی باتوں پر نہیں ہوتا بلکہ ظاہری حالات پر ہوتا ہے۔باقی اگر خدا تعالیٰ ہمیں بتا دے کہ تمہارا اسی میں فائدہ ہے تو ہم انگریزوں اور فرانسیسیوں کی ذرہ بھی پروانہ کریں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا علم نہیں دیا گیا اور ظاہری حالات کی رُو سے اس وقت اسلام اور احمدیت کا فائدہ انگریزوں کی فتح میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنگ میں انگریزوں کو فتح دے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت کی اتباع میں اور اس وجہ سے کہ جہاں تک ہماری عقل کام کرتی ہے ہمیں انگریزوں کی فتح میں ہی فائدہ دکھائی دیتا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم انگریزوں کی کامیابی کیلئے دعا کریں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس جنگ کے متعلق بہت سی باتیں بتائی ہیں اور تو اتر اور تسلسل کے ساتھ