انوارالعلوم (جلد 15) — Page 585
انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک تمام مہذب نقطہ نگاہ پر جو گزشتہ صدیوں کے اثرات کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے نہایت خطرناک حملہ ہوا ہے اور اس میں بھی کوئی قحبہ نہیں کہ یہ جنگ اگر اتحادیوں کے خلاف پڑے تو دنیا میں ایسے خطرناک تغییرات رونما ہو جائیں گے کہ نہ مذاہب کے لئے امن باقی رہے گا اور نہ قوموں کیلئے امن باقی رہے گا اور سینکڑوں سال کے لئے لوگ ویسی ہی غلامی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جیسے چوہڑے اور چمار ایک عرصۂ دراز تک آریوں کے غلام رہے ہیں اور اس میں بھی کوئی حبہ نہیں کہ جہاں تک ظاہری حالات کا تعلق ہے اتحادیوں نے اپنی غفلت اور سستی اور کبر اور خود پسندی کی وجہ سے اُن سامانوں کے جمع کرنے میں بہت ہی سستی دکھائی ہے جن سامانوں کا جنگ کے لئے جمع کرنا ضروری تھا اور ان کی اس سستی ، غفلت اور میں کہوں گا کہ تکبر کا یہ ثبوت ہے کہ گزشتہ چھ ماہ ہمارے سیاستدان اس دعوی کے اعلان میں لگے رہے کہ ہمارے پاس سامان بہت ہے اور ہم جرمن کو بھوکا مار سکتے ہیں مگر آج حالات ایسا رنگ اختیار کر گئے ہیں کہ خود انگلستان بھوکا مرنے کے خطرہ میں گرفتار ہے مگر جرمن کیلئے بھو کا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔انہوں نے اپنے سامانوں پر گھمنڈ کیا اور بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے فائدہ اُٹھاتے غفلت اور سستی میں پڑے رہے بلکہ ہندوستان میں تو اب تک غفلت اور سستی سے کام لیا جا رہا ہے۔اچھا سپا ہی دو سال میں تیار ہوا کرتا ہے لیکن ابھی تک ہندوستان میں یہی سوچا جارہا ہے کہ ہمیں اس جنگ کے مقابلہ کیلئے کیا کرنا چاہئے۔حالانکہ وہ جس دن اپنی کوششوں کا آغاز کریں گے اس سے سال دو سال بعد انہیں اپنے ملک کی حفاظت کیلئے اچھے سپاہی مل سکیں گے اس سے پہلے نہیں۔پس نہ معلوم وہ کس دن کا انتظار کر رہے ہیں۔آیا اس دن کا جب دشمن ان پر حملہ کر دے گا اور کیا جس دن دشمن حملے کرے گا اس دن انہیں وہ تیاری کیلئے مہلت بھی دے دے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں پر کچھ ایسی غفلت طاری ہوگئی کہ یہ سامانِ جنگ تیار نہ کر سکے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا کہ محض دنیوی سامانوں پر بھروسہ انسان کے کام نہیں آ سکتا چنانچہ آج بڑے کیا اور چھوٹے کیا ، بادشاہ کیا اور وزراء کیا سب کہہ رہے ہیں کہ دعائیں کرو کیونکہ دعاؤں کے بغیر کامیابی مشکل ہے۔فرانس کے وزیر اعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فرانس کو اب معجزہ کے سوا کوئی چیز نہیں بچاسکتی۔پھر انہوں نے کہا اگر یہی بات ہے تو میں معجزوں پر بھی ایمان رکھتا ہوں یعنی اگر یہی صورت ہو تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ فرانس کا میاب ہوگا۔ہم کہتے ہیں بہت اچھا وہ یقین رکھیں اور معجزات پر ہر شخص کو یقین رکھنا