انوارالعلوم (جلد 15) — Page 550
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعَيَّاء واعْلَمُ انَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ ٥٠ یعنی اس واقعہ کو بھی یاد کرو جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اے میرے رب ! مجھے بتا کہ تو مر دے کس طرح زندہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو ایمان نہیں لا چکا۔حضرت ابراہیم نے کہا۔کیوں نہیں ایمان تو مجھے حاصل ہو چکا ہے لیکن صرف اطمینانِ قلب کی خاطر میں نے یہ سوال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سیدھالے پھر ہر ایک پہاڑ پر اُن میں سے ایک ایک حصہ رکھ دے، پھر انہیں بلا۔وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔یہ واقعہ اگر ظاہری ہوتا تو اس پر بہت سے اعتراض پڑتے ہیں۔اول یہ کہ احیائے موتی کے ساتھ پرندوں کے سدھانے کا کیا تعلق (۲) چار پرندے لینے کے کیا معنی؟ کیا ایک سے یہ غرض پوری نہ ہوتی تھی؟ (۳) پہاڑوں پر رکھنے کا کیا فائدہ؟ کیا کسی اور جگہ رکھنے سے کام نہ چلتا تھا۔پس حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری کلام نہیں بلکہ باطن رکھنے والا کلام ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ الہی ! جو احیائے موتی کا کام تو نے میرے سپرد کیا ہے اسے پورا کر کے دکھا اور مجھے بتا کہ یہ قومی زندگی کس طرح پیدا ہوگی جبکہ میں بڑھا ہوں اور کام بہت اہم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے وعدہ کیا ہے تو یہ ہو کر رہے گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہو کر تو ضرور ر ہے گا مگر میں اپنے اطمینان کیلئے پوچھتا ہوں کہ یہ مخالف حالات کیونکر بدلیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چار پرندے لے کر سیدھا اور ہر ایک کو پہاڑ پر رکھ دے۔پھر بلا ؤ اور دیکھو کہ وہ کس طرح تیری طرف دوڑتے آتے ہیں۔یعنی اپنی اولاد میں سے چار کی تربیت کرو۔وہ تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس احیاء کے کام کی تکمیل کریں گے۔یہ چار جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف ہیں۔ان میں سے دو کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے براہ راست تربیت کی اور دو کی بالواسطہ۔پہاڑ پر رکھنے کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کی اعلیٰ تربیت کر کیونکہ وہ بہت بڑے درجہ کے ہوں گے گویا پہاڑ پر رکھنے کے معنی ان کے رفیع الدرجات ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بلندیوں کی چوٹیوں تک جا پہنچیں گے۔غرض اس طرح احیاء قومی کا وہ نقشہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریب زمانہ میں ظاہر