انوارالعلوم (جلد 15) — Page 541
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی پہلے نبیوں سے کچھ اختلاف رکھتی ہے۔پس اگر ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں آتی تو ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس نبوت کو باوجود مختلف ہونے کے اسی آیت کے ماتحت قرار دیتے ہیں۔پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پہلی نبوتوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے اسی طرح یہ خلافت با وجود پہلی خلافتوں سے ایک اختلاف رکھنے کے اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے۔حضرت مسیح ناصری کے خلفاء بھی تیرا جواب یہ ہے کہ مسیح ناصری کے بعد کے خلفاء بھی نظام ملکی سے کوئی تعلق نہ نظام مملکی سے کوئی تعلق نہ رکھتے تھے رکھتے تھے۔اگر کوئی کہے کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہوا ہی نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرماتے ہیں۔مَا كَانَتْ نُبُوَّةً قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ " کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی نبوت نہیں گزری جس کے پیچھے اسی قسم کی خلافت قائم نہ ہوئی ہو۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت ملی تھی تو آپ کے بعد ویسی ہی خلافت کے قیام کو مانا ہمارے لئے ضروری ہے بصورت دیگر معترضین کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی نہیں تھے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کو نبوت کے بعد لازمی قرار دیا ہے۔دوسرے مسیحی لوگ پطرس کو خلیفہ مانتے چلے آئے ہیں۔پس جب کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کے بعد ضرور خلافت ہوئی اور مسیحی خود اقرار کرتے ہیں کہ پطرس حضرت مسیح ناصرٹی کا خلیفہ تھا تو پھر یہ تیسرا گروہ کہاں سے پیدا ہو گیا جو کہتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہی نہیں ہوا جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا تھا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہوں نے بھی فرما دیا کہ ہر نبی کے بعد خلافت قائم ہوئی ہے اور جب عیسائی جن کے گھر کا یہ معاملہ ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کے بعد خلافت قائم ہوئی اور جب کہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے تو پھر اس سے انکار کرنا محض ضد ہے۔اگر کہا جائے کہ بعض مسیحی انہیں خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض مسلمان بھی خلفاء اربعہ کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے ، بعض کے رڈ کر دینے سے مسئلہ تو رد نہیں ہو جاتا۔