انوارالعلوم (جلد 15) — Page 542
انوار العلوم جلد ۱۵ 66 خلافت راشده تیسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الوصیۃ میں مسیحیوں کے بارہ میں ایسا انتظام تسلیم کیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔وو ’ جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔۔۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔1 گویا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اسی طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد خلافت قائم نہیں ہوئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس صریح ارشاد کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اور ایک ایسی بات پیش کرتا ہے جس کی نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے تائید ہوتی ہے نہ تاریخ سے تائید ہوتی ہے اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تائید کرتے ہیں۔چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اگر اس مخالفین کا ایک اور اعتراض اور اس کا جواب آیت سے افراد مراد لئے جائیں تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وعدہ دو قسم کے وجودوں کے متعلق ہے۔ایک نبیوں کے متعلق اور ایک بادشاہوں کے متعلق۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جس قسم کے نبی آیا کرتے تھے اُن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کر دیا اور بادشاہت کو آپ نے پسند نہیں فرمایا بلکہ صاف فرما دیا کہ میرے بعد کے خلفاء بادشاہ نہ ہونگے تو پھر کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ اس آیت میں وعدہ