انوارالعلوم (جلد 15) — Page 538
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نے ان لوگوں کو پیدا کر دیا اور پھر زیادہ روشن صورت میں جب زمانہ کو ایک نبی کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے پورا کر دیا۔ گو فرق یہ ہے کہ پہلے انبیاء براہ راست مقام نبوت حاصل کرتے تھے مگر آپ کو نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے ملی ۔ خلافت احمد یہ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں كما استَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ آیا ہے۔ چلو ہم مان لیتے ہیں کہ پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت تھے کیونکہ اُن کے پاس نظام ملکی تھا لیکن اس آیت سے وہ خلافت جو احمد یہ جماعت میں ہے کیونکر ثابت ہوگئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نظام ملکی نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ یہ کیا ہے کہ وہ امنوا اور وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ کی مصداق جماعت کو خلیفہ بنائے گا اور خلیفہ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کا نائب ہوتا ہے۔ پس وعدہ کی ادنی حد یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد اُس کے نام کے نائب ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ جس رنگ کا نبی ہوا گر اسی رنگ میں اس کا نائب بھی ہو جائے تو وعدہ کی ادنی حد پوری ہو جاتی ہے اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد ملکی نظام نہ تھا اس لئے آپ کی امرِ نبوت میں جو شخص نیابت کرے وہ اس وعدہ کو پورا کر دیتا ہے ۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملکی نظام عطا ہوتا تب تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ آپ کے بعد کے خلفاء نے نیابت کس طرح کی مگر نظام ملکی عطا نہ ہونے کی صورت میں یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ جس نبی کا کوئی خلیفہ ہو اُسے وہی چیز ملے گی جو نبی کے پاس ہوگی اور جو اُس کے پاس ہی نہیں ہوگی وہ اُس کے خلیفہ کو کس طرح مل جائے گی ۔ حضرت خلیفہ اول کے متعلق یہ بات : ا یہ بات بہت مشہور تھی اور آپ خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جب بھی روپیہ کی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے روپیہ بھجوا دیتا ہے۔ ایک دفعہ کسی نے آپ کے پاس بیس روپے بطور امانت رکھے جو کسی ضرورت پر آپ نے خرچ کر لئے چند دنوں کے بعد وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ میری امانت مجھے دے دیجئے ۔ اُس وقت آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا مگر آپ نے اُسے فرمایا ذرا ٹھہر جائیں ابھی دیتا ہوں ۔ دس پندرہ منٹ ہی گزرے