انوارالعلوم (جلد 15) — Page 526
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اُنْزِلَ عَلَيْنَا کہتے ہیں حالانکہ وہ کلام اُن پر نہیں بلکہ اُن کے انبیاء پر اترا تھا۔پس بعض افراد پر جو ایسا انعام نازل ہو جس سے ساری قوم کو فائدہ پہنچتا ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ ساری قوم کو ملا۔مثلاً زید کے پاس روپیہ ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سارا شہر دولتمند ہے لیکن اگر شہر میں ایک عالم بھی ایسا ہو جو درس و تدریس کے ذریعہ لوگوں کی علمی خدمت کر رہا ہو تو اس شہر کو عالموں کا شہر کہہ دیا جاتا ہے۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ قادیان میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔عالم بھی ہیں جاہل بھی ہیں ، دُکاندار بھی ہیں، مزدور بھی ہیں، پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی ہیں، مگر ار در گرد کے دیہات میں قادیان کے جب بھی دو چار آدمی چلے جائیں۔تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ قادیان کے مولوی‘ آ گئے چاہے وہ اینٹیں ڈھونے والے مزدور ہی کیوں نہ ہوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ قادیان میں ہر وقت علم کا چرچا رہتا ہے اور اس علمی چر چے کی وجہ سے قادیان کے ہر آدمی کو مولوی کہہ دیا جاتا ہے۔جیسے باپ حکیم ہوتا ہے تو بیٹا خواہ طب کا ایک حرف بھی نہ جانتا ہوا سے لوگ حکیم کہنے لگ جاتے ہیں۔تو جہاں شدید نسبت ہوتی ہے وہاں اس نسبت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے افراد بھی اس میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔جب کسی نبی پر خدا کا کلام نازل ہو تو وہ نبی جس قوم میں سے ہو اس کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اس پر خدا کا کلام نازل ہوا حالانکہ کلام نبی پر نازل ہوتا ہے۔اسی طرح قوم میں سے کوئی بادشاہ ہو تو ساری قوم کو بادشاہ سمجھا جانے لگتا ہے۔انگلستان میں کئی ایسے غریب لوگ ہیں جو دوسروں سے بھیک مانگتے ہیں لیکن ہندوستان میں اگر وہاں کا ایک چوہڑا بھی آجائے تو اسے لوگ دور سے سلام کرنے لگ جاتے ہیں۔پولیس والے بھی خیال رکھتے ہیں کہ ”صاحب بہادر“ کی کوئی ہتک نہ کر دے حالانکہ اپنے ملک میں اُسے کوئی اعزاز حاصل نہیں ہوتا مگر چونکہ قوم کے بعض افراد کو بادشاہت مل گئی اس لئے قوم کا ہر فرد معزز سمجھا جانے لگا۔کچھ عرصہ ہوا ہندوستان کے ایک راجہ صاحب ولایت گئے۔جب وہاں سے واپس آئے اور بمبئی میں پہنچے تو انہیں کوئی ضروری کام تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ بندرگاہ سے جلدی نکلنے کی اجازت مل جائے۔پاسپورٹ دیکھنے پر ایک انگریز مقرر تھا۔وہ جلدی سے پاسپورٹ لے کر آگے بڑھے اور کہا کہ میرا پاسپورٹ دیکھ لیجئے مجھے ایک ضروری کام ہے اور میں نے جلدی جانا ہے مگر اس نے کہا ٹھہرو میں باری باری دیکھوں گا۔چنانچہ اس نے راجہ کی کوئی پرواہ نہ کی اور سب کے بعد اسے گزرنے کی اجازت دی۔اس پر اخبارات میں بڑا شور اٹھا کہ راجہ صاحب کی ہتک