انوارالعلوم (جلد 15) — Page 525
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کھانا معاویہؓ کے ہاں اچھا ملتا ہے۔اس لئے جب نماز کا وقت ہوتا ہے میں اُدھر چلا جاتا ہوں اور جب روٹی کا وقت آتا ہے تو ادھر آ جاتا ہوں۔معاویہ کے ہاں سے انہیں چونکہ کھانے کیلئے پلاؤ اور متنجن وغیرہ ملتا تھا اس لئے وہ اُس وقت اُدھر چلے جاتے مگر نماز چونکہ حضرت علی کی رقت اور سوز والی ہوتی تھی اس لئے نماز کے وقت وہ آپ کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ہمارے بعض غیر مبائع دوستوں کا بھی ایسا ہی ایک غیر مبائع دوست کا لطیفہ حال ہے بلکہ اُن کا لطیفہ تو ابو ہریرہ کے لطیفے سے بھی بڑھ کر ہے۔میں ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی دوست نے ایک غیر مبائع کے متعلق بتایا کہ وہ کہتے ہیں عقائد تو ہمارے ہی درست ہیں مگر دعائیں میاں صاحب کی زیادہ قبول ہوتی ہیں۔گویا جیسے ابو ہریرہ نے کہا تھا کہ روٹی معاویہ کے ہاں سے اچھی ملتی ہے اور نماز علی کے ہاں اچھی ہوتی ہے۔اسی طرح اُس نے کہا عقا ئد تو ہمارے ٹھیک ہیں مگر دعائیں اِن کی قبول ہوتی ہیں۔غرض قوم میں بادشاہت کے آجانے کے باوجود پھر بھی کئی لوگ غریب ہی رہتے ہیں مگر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ قوم بادشاہ ہے حالانکہ بادشاہ ایک ہی ہوتا ہے باقی سب بادشاہ نہیں ہوتے۔اسی طرح یہود کے متعلق یہ کہا گیا کہ جَعَلَكُمْ تُلُوعًا۔اگر یہی ضروری ہے کہ جب خدا یہ کہے کہ میں نے تم کو بادشاہ بنایا تو قوم کا ہر فرد بادشاہ بنے تو ثابت کرنا چاہئے کہ ہر یہودی کو خدا نے بادشاہ بنایا۔مگر ایسا کوئی ثابت نہیں کر سکتا بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ تمام قوم بادشاہت کے فوائد سے حصہ پاتی ہے اس لئے ہم دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ قوم بادشاہ ہوگئی۔اسی طرح جب کسی قوم میں سے بعض افراد کو خلافت مل جائے تو یہی کہا جائے گا کہ اُس قوم کو وہ انعام ملا۔یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہر فرد کو یہ انعام ملے۔دوسری مثال اس کی یہ آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بما انزل اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُونَ بِمَاوراءة ٥٩ کہ جب یہود سے یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن میں جو کچھ اُترا ہے اُس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں نُؤْمِنُ بِما ان اہم تو اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے۔اب یہ امرصاف ظاہر ہے کہ وحی اُن پر نہیں اتری تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔مگر وہ کہتے ہیں ہم پر اتری گویا وہ حضرت موسیٰ یا دیگر انبیاء علیہم السلام کے کلام کے متعلق