انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 524

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کہا کہ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے وَجَعَلَكُمْ مُلوکا اور اس نے تم کو بادشادہ بنایا۔اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔یقیناً بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوں گے مگر موسی ان سے یہی فرماتے ہیں کہ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا اس نے تم سب کو بادشاہ بنایا۔مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم اُن انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہوگئی (غرض جب جَعَلَكُمْ قُلُوعًا کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے یہ معنی نہیں کئے جاتے کہ ہر یہودی بادشاہ بنا تو وعد الله الّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم سے یہ کیونکر نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ یہ وعدہ بعض افراد کے ذریعہ پورا نہیں ہونا چاہئے بلکہ امت کے ہر فرد کو خلافت کا انعام ملنا چاہئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہود کے متعلق جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جَعَلَكُمْ مُلُوعًا تو مفسرین نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ گو بادشاہت چندا فراد کو ہی ملی مگر چونکہ اُن کے ذریعہ قوم کا عام معیار بلند ہو گیا اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سب کو بادشاہت ملی۔مگر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وقدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وعَمِلُوا الشلخت ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ في الأَرْضِ تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ وعدہ سب قوم سے ہے ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ بعض افراد کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوا حالانکہ اگر اس سے قومی غلبہ ہی مراد لے لیا جائے تو بھی ہر مومن کو یہ غلبہ کہاں حاصل ہوتا ہے۔پھر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض کو غلبہ ملتا ہے اور بعض کو نہیں ملتا۔صحابہ میں سے بھی کئی ایسے تھے جو قومی غلبہ کے زمانہ میں بھی غریب ہی رہے اور ان کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ ہوئی ) حضرت ابو ہریرہ کا ہی لطیفہ ہے۔جب حضرت علیؓ اور معاویہؓ کی آپس میں جنگ ہوئی اور صفین کے مقام پر دونوں لشکروں نے ڈیرے ڈال دیئے تو باوجود اس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے کیمپوں میں ایک ایک میل کا فاصلہ تھا جب نماز کا وقت آتا تو حضرت ابو ہریرہ حضرت علی کے کیمپ میں آ جاتے اور جب کھانے کا وقت آتا تو حضرت معاویہ کے کیمپ میں چلے جاتے۔کسی نے اُن سے کہا کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں اُدھر حضرت علی کی مجلس میں چلے جاتے ہیں اور ادھر معاویہؓ کی مجلس میں شریک ہو جاتے ہیں۔یہ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے۔نماز علی کے ہاں اچھی ہوتی ہے اور