انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 24

انوار العلوم جلد ۱۵ معلومات قرآن کریم نے اپنے چند الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔انقلاب حقیقی بابل کی حکومت کا جو بیان تو رات میں بابلی تحریک کا ذکر کتب مقدسہ میں آتا ہے اس سے بھی قرآنی بیان کی تصدیق ہوتی ہے چنانچہ بائبل میں آتا ہے۔اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم اپنے واسطے ایک شہر بناویں اور ایک بُرج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے اور یہاں اپنا نام کریں ایسا نہ ہو کہ تمام روئے زمین پر پریشان ہو جائیں اور خداوند اس شہر اور بُرج کو جسے بنی آدم بناتے تھے دیکھنے اترا۔اور خدا وند نے کہا۔دیکھو! لوگ ایک ہی اور ان سب کی ایک ہی بولی ہے اب وے یہ کرنے لگے۔سوؤے جس کام کا ارادہ رکھیں گے اس سے نہ رک سکیں گے۔آؤ ہم اُتریں اور ان کی بولی میں اختلاف ڈالیں تا کہ وے ایک دوسرے کی بات نہ سمجھیں،، ۱۳ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہودی تاریخ کے مطابق بھی بابلی لوگوں کا بڑا کمال بلند عمارات بنانے میں تھا کیونکہ توریت کے اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ دنیا میں زبانوں کے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کسی وقت بابل کے لوگوں نے ایک بلند عمارت بنانی شروع کی تھی تا وہ ان کے لئے ایک نشان قرار پائے اور اس کی وجہ سے وہ پرا گندگی سے بچ جائیں لیکن اللہ تعالیٰ پراگندگی چاہتا تھا اس لئے اُس نے اُن کو اس ارادہ سے باز رکھنے کیلئے ان کی زبانوں میں فرق ڈال دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم میں سے اتحاد مٹ گیا اور اُن کی طاقت ٹوٹ گئی اور وہ اس عمارت کے بنانے میں ناکام رہے۔جو وجہ اس حوالہ میں دی گئی ہے وہ تو محض ایک کہانی ہے لیکن اس سے یہ تاریخی صداقت ضرور معلوم ہو جاتی ہے کہ اہل بابل اونچی عمارتیں بنانے میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور ایسی بلند عمارتیں بناتے تھے جن کو دیکھ کر شبہ ہوتا تھا کہ گویا وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔قرآن کریم میں بھی فرعون کی نسبت اس حوالہ کے مشابہ ایک بات بیان کی گئی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ بائبل میں تو خدا تعالیٰ کی طرف اس بیہودہ خیال کو منسوب کیا گیا ہے کہ کہیں انسان بلند عمارت بنا کر اُلوہیت کے مقام کو حاصل نہ کر لے اور قرآن کریم نے اس لغو خیال کو فرعون کی طرف منسوب کیا ہے جس کی صداقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرعون کی نسبت