انوارالعلوم (جلد 15) — Page 516
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور یہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اور اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی بچ گئے اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر خدا نے ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اُس نے ظہر کو رڈ کر دیا تو ہم جمعہ اُس کے سامنے پیش کر دیں گے۔اگر کوئی احتیاطی“ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا مولوی غلام علی صاحب کا ایک واقعہ کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا ہم نماز پڑھنے کیلئے ایک مسجد میں چلے گئے۔آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا ہر انسان کی نجات کیلئے ضروری ہے۔غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے اُن سے کہا مولوی صاحب یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔وہ کہنے لگے یہ احتیاطی“ ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ تو وہابی ہیں اور عقیدۃ اس کے مخالف ہیں پھر احتیاطی کے کیا معنی ہوئے۔وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر بلکہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ اپنے دل میں تو وہ اس بات پر خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور ادھر لوگوں کو خوش کرنے کیلئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔ایک سنتی بزرگ کا لطفہ اسی طرح ایک لطیفہ مشہور اسی طرح ایک لطیفہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی سنی بزرگ تھے جو شیعوں کے علاقہ میں رہتے تھے۔ایک دفعہ غربت کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر مدد کی درخواست کرنی چاہئے۔چنانچہ وہ اُس کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔وزیر نے اُن کی شکل کو دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ یہ شخص سنی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا تمہیں کس طرح معلوم