انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 517

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده ہوا۔وہ کہنے لگا بس شکل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ کہنے لگا یہ کوئی دلیل نہیں ، تم میرے سامنے اس کا امتحان لو۔چنانچہ وزیر نے اُن کے سامنے حضرت علیؓ کی بڑے زور سے تعریف شروع کر دی وہ بزرگ بھی حضرت علیؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔بادشاہ نے دیکھ کر کہا کہ دیکھا تم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط ثابت ہوا یا نہیں۔اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو کیا حضرت علی کی ایسی ہی تعریف کرتا۔وزیر کہنے لگا۔بادشاہ سلامت آپ خواہ کچھ کہیں مجھے یہ سنی ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا امتحان کیلئے پھر کوئی اور بات کرو۔چنانچہ وزیر کہنے لگا کہو " بر ہر سہ لعنت ، یعنی ابو بکر، عمر اور عثمان پر ( نَعُوذُ بِالله ( لعنت۔وہ بھی کہنے لگ گیا۔'بر ہر سہ لعنت بادشاہ نے کہا اب تو یہ یقینی طور پر شیعہ ثابت ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگے بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں۔آخر وزیرا نہیں الگ لے گیا اور کہا سچ سچ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں ہوں تو سنی ہی۔وہ کہنے لگا پھر تم نے ”بر ہر سہ لعنت کیوں کہا؟ وہ بزرگ کہنے لگے تمہاری اِن الفاظ سے تو یہ مراد تھی کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان پر لعنت ہو مگر میری مراد یہ تھی کہ آپ دونوں اور مجھ پر لعنت ہو۔آپ لوگوں پر اس لئے کہ آپ بزرگوں پر لعنت کرتے ہیں اور مجھ پر اس لئے کہ مجھے اپنی بدبختی کی وجہ سے تم جیسے لوگوں کے پاس آنا پڑا۔غرض انسان کئی طریق سے وقت گزار لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اُس نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔مگر فرمایا يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا خلفاء انتہائی طور پر دلیر ہونگے اور خوف و ہراس اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔وہ جو کچھ کریں گے خدا کی رضا کیلئے کریں گے، کسی انسان سے ڈر کر اُن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوگا۔" فتنہ ارتداد کے مقابلہ میں یہ علامت بھی خلفاء راشدین میں تمام وکمال پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ حضرت ابوبکر کی استقامت وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا۔صرف دو جگہ نماز با جماعت ہوتی تھی باقی تمام مقامات میں فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا اور سوائے مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُو ان کے مالوں سے صدقہ لے کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوۃ وصول کرے۔غرض سارا عرب مرتد ہو گیا اور وہ لڑائی کیلئے چل پڑا۔رسول کریم صلی اللہ