انوارالعلوم (جلد 15) — Page 512
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده جب وہ ان واقعات سے خائف ہی نہ تھے تو من بعدِ خوفهم آمنا کے خلاف یہ واقعات کیونکر ہو گئے۔یہ لوگ تو اگر کسی امر سے خائف تھے تو اس سے کہ اسلام کی روشنی میں فرق نہ آئے۔سو باوجود ان واقعات کے وہی بات آخر قائم ہوئی جسے یہ لوگ قائم کرنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔یہی حال حضرت علیؓ کا ہے۔اُن کے دل کا خوف بھی صرف حضرت علی کی شہادت صداقت اور روحانیت کی اشاعت کے بارہ میں تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو امن سے بدل دیا۔یہ ڈر نہیں تھا کہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت معاویہ کا لشکر بعض دفعہ حضرت علیؓ کے لشکر سے کئی کئی گنے زیادہ ہوتا تھا آپ اس کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے تھے اور یہی فرماتے تھے کہ جو کچھ قرآن کہتا ہے وہی مانوں گا اس کے خلاف میں کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتا۔اگر محض لوگوں کی مخالفت کو ہی خوفناک امر قرار دے دیا جائے تب تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء نَعُوذُ بِاللهِ ) ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہے کیونکہ جتنی مخالفت لوگ ان کی کرتے ہیں اتنی مخالفت اور کسی کی نہیں کرتے۔بہر حال دنیا کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور نہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وليد لنَّهُمْ مِنْ بَعْدَ الخَوفِ آمَنَّا بلكه وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا فرمایا ہے یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے ہوں گے اسے اللہ تعالیٰ دور کر دے گا اور ان کے خوف کوامن سے بدل دے گا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ صرف اس بات سے ڈرتے تھے کہ امت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔سو امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس توجہ اور دعا کی برکت سے بحیثیت مجموعی ضلالت سے محفوظ رکھا اور اہل السنت والجماعت کا مذہب ہی دنیا کے کثیر حصہ پر ہمیشہ غالب رہا۔اللہ تعالیٰ اپنے خلفاء کو عام میں نے اس آیت کے جو معنی کئے ہیں کہ اس جگہ خوف سے مراد عام خوف نہیں بلکہ وہ خوف خوف سے بھی محفوظ رکھتا ہے ہے جسے خلفاء کا دل محسوس کرتا ہو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں عام خوف ضرور ہوتا ہے بلکہ عام خوف بھی اللہ تعالیٰ اُن سے دور ہی رکھتا ہے سوائے اس کے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو۔جیسے حضرت علیؓ کے زمانہ میں جب خوف پیدا ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے نزد یک خلافت کے انعام کے مستحق نہیں رہے تھے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام