انوارالعلوم (جلد 15) — Page 513
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خوفوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل وعدہ اس آیت میں اسی خوف کے متعلق ہے جس کو وہ خوف قرار دیں۔اور وہ بجائے کسی اور بات کے ہمیشہ اس ایک بات سے ہی ڈرتے تھے کہ امت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آ جائے۔سوخدا کے فضل سے امت محمد یہ ایسی ضلالت سے محفوظ رہی اور باوجود بڑے بڑے فتنوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد اس کی ہدایت کے سامان ہوتے رہے۔اور اصل معجزہ یہی ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد بھی اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں۔زندگی میں اگر کسی کی خواہشیں پوری ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تدبیروں سے کام لے لیا تھا مگر جس کی زندگی ختم ہو جائے اور پھر بھی اس کی خواہشیں پوری ہوتی رہیں اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کسی ظاہری تدبیر سے کام لے لیا ہوگا بلکہ یہ امر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا تھا اور اللہ تعالیٰ کا اس سے گہرا تعلق تھا۔رسول کریم ﷺ کا ایک کشف اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صل نے کشفی حالت میں ایک شخص کے علوم جو آپ کی وفات کے بعد پورا ہوا ہاتھوں میں شہنشاہ ایران کے سونے کے کڑے دیکھے۔اب رسول کریم ﷺ کا معجزہ یہ نہیں کہ آپ نے اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے دیکھے بلکہ معجزہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مال غنیمت میں سونے کے کڑے آئے اور باوجود اس کے کہ شریعت میں مردوں کو سونے کے کڑے پہنے ممنوع ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں یہ جذبہ پیدا کر دیا کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس کشف کو پورا کرنے کیلئے اسے سونے کے کڑے پہنا ئیں چنانچہ الله آپ نے اسے پہنا دیئے۔پس اس واقعہ میں معجزہ یہ ہے کہ باوجود یکہ رسول کریم مالی سال نو و تم ہو چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کا جذ بہ پیدا کر دیا۔پھر یہ بھی معجزہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی یہ بات حضرت عمر نے سن لی اور آپ کو اسے پورا کرنے کا موقع مل گیا۔آخر حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ کی ہر بات تو نہیں سنا کرتے تھے ممکن ہے یہ بات کسی اور کے کان میں پڑتی اور وہ آگے کسی اور کو بتانا بھول جاتا مگر اس معجزے کا ایک یہ بھی حصہ ہے کہ جس شخص کے پاس سونے کے کڑے پہنچنے تھے اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کشف پہنچ چکا تھا۔پھر اسی معجزہ کا یہ بھی حصہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کر دی کہ وہ اس صحابی کو سونے کے کڑے پہنا ئیں حالانکہ شریعت کے لحاظ سے