انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 499

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کے افراد بھی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کے ذریعہ مجھے ہمیشہ سچی خبریں ملتی رہتی ہیں اور میں ان سے فائدہ اٹھا کر جماعت کی صحیح راہنمائی کر سکتا ہوں۔اطاعت رسول بھی صحیح معنوں پس در حقیقت اقامت صلوۃ بھی بغیر خلیفہ کے نہیں ہوسکتی اسی طرح اطاعت رسول بھی جس میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی کا اطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول کے الفاظ میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرویا جائے۔یوں تو صحابہ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں، صحابہؓ بھی روزے رکھتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی روزے رکھتے ہیں ، صحابہ بھی حج کرتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں پھر صحابہ اور آج کل کے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ یہی فرق ہے کہ وہ اس وقت نمازیں پڑھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب نماز کا وقت آ گیا ہے، وہ اس وقت روزے رکھتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب روزوں کا وقت آ گیا ہے اور وہ اس وقت حج کرتے تھے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اب حج کا وقت آ گیا ہے اور گو وہ نماز اور روزہ اور حج وغیرہ عبادات میں حصہ لیکر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے مگر ان کے ہر عمل میں رسول کریم ﷺ کی اطاعت کی روح بھی جھلکتی تھی جس کا یہ فائدہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے ، صحابہ اُسی وقت اس پر عمل کرنے کیلئے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آج کل کے مسلمانوں میں نہیں۔مسلمان نمازیں بھی پڑھیں گے ، مسلمان روزے بھی رکھیں گے، مسلمان حج بھی کریں گے مگر ان کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں ہوگا کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام خلافت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعت رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعت رسول یہ نہیں کہ نمازیں پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو یہ تو خدا کے حکم کی اطاعت ہے۔اطاعتِ رسول یہ ہے کہ جب وہ کہے کہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب لوگ نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب زکوۃ اور چندوں کی ضرورت ہے تو وہ زکوۃ اور چندوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب جانی قربانی کی ضرورت ہے یا وطن کو قربان کرنے کی ضرورت ہے تو وہ جانیں اور اپنے وطن قربان کرنے کیلئے کھڑے ہو جائیں۔غرض یہ تینوں باتیں ایسی ہیں جو خلافت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اگر خلافت نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ