انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 493

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اطاعت کرنے سے انکار کر دو اور وہی کرو جس کے کرنے کا تمہیں خدا نے حکم دیا ہے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تَبْغَضُوْنَهُمْ وَيَبْغَضُوْنَكُمْ وَتَلْعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلوةَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوافِيكُمُ الصَّلوةَ إِلَّا مَنْ وُلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَاهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَّعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهُ مَا يَأْتِي مِن مَّعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِ ٢٣ حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ۔ تم ان پر درود بھیجو اور ان کی ترقیات کیلئے دعائیں کرو اور وہ تم پر درود بھیجیں اور تمہاری ترقیات کیلئے دعائیں کریں اور بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں ۔ تم ان پر لعنت ڈالو اور وہ تم پر لعنت ڈالیں ۔ راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا۔ يَا رَسُولَ اللهِ ! جب ایسے حکمران ہمارے سروں پر مسلط ہو جائیں تو کیوں نہ ہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں حکومت سے الگ کر دیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا مَا أَقَامُوا الصَّلوةَ فِيكُمْ لَا مَا أَقَامُوا الصَّلوة فِيكُمْ ۔ ہرگز نہیں ۔ ہرگز نہیں جب تک وہ نماز اور روزہ کے متعلق تم پر کوئی پابندی عائد نہ کریں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ نہ رو روکیں تم ان کی اطا اطاعت سے ہرگز ہرگز منہ منہ نہ نہ موڑو۔ موڑو ۔ الا من ولى عليه وال فراه يأتي شيئًا من معصية الله فليكره ما يأتى من معصية الله ولا ينزعن يدًا من طاعته - سنو! جب تم پر کسی کو حاکم بنایا جائے اور تم دیکھو کہ وہ بعض امور میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا ارتکاب کر رہا ہے تو تم اپنے دل میں اس کے ان افعال سے سخت نفرت رکھو مگر بغاوت نہ کرو۔ دوسری حدیث میں اس سے یہ زائد حکم ملتا ہے کہ اگر کفر بواح اس سے ظاہر ہو تو اس حالت میں اس کے خلاف بغاوت بھی کی جاسکتی ہے۔ حکم اس کے مقابلہ خلفائے راشدین کی سنت پر ہمیشہ قائم رہنے کا حکم اس میں احادیث میں عرباض بن ساریہ سے ہمیں ایک اور روایت بھی ملتی ہے۔ وہ کہتے ہیں صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا