انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 489

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده بیان کئے گئے ہیں اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ (۱) اسلامی نظام انتخاب پر ہو ۔ (۲) یہ کہ مسلمان ہر زمانہ میں زمانہ میں أولي الأمْرِ مِنْكُمْ کے تابع رہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے تنزل کے زمانہ میں دونوں اصولوں کو بھلا دیا۔ جہاں ان کا بس تھا انہوں نے انتخاب کو قائم نہ رکھا اور جو اموران کے اختیار سے نکل گئے تھے ان کو چھوڑ کر جو امور ان کے اختیار میں تھے ان میں بھی انہوں نے أولى الأمْرِ مِنكُمْ کا نظام قائم کر کے ان کی اطاعت سے وحدت اسلامی کو قائم نہ رکھا اور ان لغو بحثوں میں پڑ گئے کہ انہیں صرف اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ کی اطاعت کرنی چاہئے ۔ اور اس طرح جو اصل غرض اس حکم کی تھی وہ نظر انداز ہو گئی حالانکہ جو امران کے اختیار میں نہ تھا اس میں ان پر کوئی گرفت نہ تھی اگر وہ اس حصہ کو پورا کرتے جو ان کے اختیار میں تھا۔ اس جگہ شاید أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب کوئی اعتراض کرے کہ احمد یہ جماعت کی تعلیم تو یہ ہے کہ اُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ میں غیر مذاہب کے أولى الأمر بھی شامل ہیں اور اس آیت کے ماتحت غیر مسلم حکام کی اطاعت بھی فرض ہے ۔ مگر اب جو معنی کئے گئے ہیں اس کے ماتحت غیر مسلم آ ہی نہیں سکے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے لیکن یہ معنی صرف أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے ٹکڑے سے نکلتے ہیں ۔ یعنی جب ہم کہتے ہیں کہ غير مسلم أولى الأمر بھی اس میں شامل ہیں تو اس وقت ہم سارے رکوع کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ آیت کے صرف ایک ٹکڑہ سے اپنے دعوے کا استنباط کرتے ہیں لیکن یہ ٹکڑہ ساری آیتوں سے مل کر جو معنی دیتا ہے انہیں باطل نہیں کیا جا سکتا ۔ بیشک دُنیوی امور میں ہر اولی الامر کی اطاعت واجب ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر زمانہ میں أولى الْأَمْرِ مِنْكُمْ کی اطاعت جو مسلمانوں میں سے ان کیلئے منتخب ہوں ان پر واجب ہے۔ اولی الامر سے اختلاف کی صورت میں اب میں اس مضمون کو لیتا ہوں جس کے بیان رُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُول کے کیا معنی ہیں؟ کرنے کا میں پیچھے وعدہ کر آیا ہوں کہ بعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اولوالامر سے اختلاف کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے رُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَ الرَّسُول فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت واجب نہیں بلکہ اختلاف کی صورت میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خدا اور رسول کا