انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 488

انوار العلوم جلد ۱۵۔خلافت راشده کا حکم بھی ہر حالت اور ہر زمانہ کیلئے ہے اور دراصل اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ کسی نہ کسی نظام کی پابندی ان کیلئے ہر وقت لازمی ہوگی۔پس جس طرح دوسرے احکام میں اگر ایک حصہ پر عمل نہ ہو سکے تو دوسرے حصے معاف نہیں ہو سکتے۔جو جہاد نہ کر سکے اس کیلئے نماز معاف نہیں ہو سکتی ، جو وضو نہ کر سکے اس کیلئے رکوع اور سجدہ معاف نہیں ہوسکتا ، جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اس کیلئے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے نماز پڑھنا معاف نہیں ہو سکتا، اسی طرح اگر سارے عالم اسلامی کا ایک سیاسی نظام نہ ہو سکے تو مسلمان أولي الامر کی اطاعت کے ان حصوں سے آزاد نہیں ہو سکتے جن پر وہ عمل کر سکتے تھے۔جیسے اگر کوئی حج کیلئے جائے اور صفا اور مردہ کے درمیان سعی نہ کر سکے تو سعی اس کیلئے معاف نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کیلئے ضروری ہوگا کہ کسی دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس فرض کو ادا کرے۔پس مسلمانوں سے یہ ایک شدید غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ چونکہ ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا ہے اس لئے دوسرا نظام انہیں معاف ہو گیا ہے۔حالانکہ خالص مذہبی نظام مختلف حکومتوں میں بٹ جانے کی صورت میں بھی ناممکن نہیں ہو جاتا جیسا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہے اگر لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ تم چور کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹتے۔تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں لیکن جن امور میں ہمیں آزادی حاصل ہے ان امور میں ہم اپنی جماعت کے اندر اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کرنا اپنا پہلا اور اہم فرض سمجھتے ہیں۔پس اگر مسلمان بھی سمجھتے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں اولی الامْرِ مِنكُمْ کی اطاعت ان پر واجب ہے اور جن حصوں میں اولی الامر کی اطاعت ان کیلئے ناممکن تھی ان کو چھوڑ کر دوسرے حصوں کیلئے وہ نظام قائم رکھتے تو وہ اس حکم کو پورا کرنے والے بھی رہتے اور اسلام کبھی اس حالت کو نہ پہنچتا جس کو وہ اب پہنچا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا شاید یہ منشاء تھا کہ اسلامی حکم کا یہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ سے عمل میں آئے اور یہ فضیلت اس اخرين منهم ان کی جماعت کو حاصل ہو کیونکہ آخر ہمارے لئے بھی کوئی نہ کوئی فضیلت کی بات رہنی چاہئے۔صحابہ نے تو یہ فضیلت حاصل کر لی کہ انہوں نے ایک دینی ودنیوی مشتر که نظام اسلامی اصول پر قائم کیا مگر جو خالص مذہبی نظام تھا اس کے قیام کی طرف اس نے ہمیں توجہ دلا دی۔گویا اس آیت کے ایک حصے پر صحابہ نے عمل کیا اور دوسرے حصے پر ہم نے عمل کر لیا۔پس ہم بھی صحابہ میں جاملے۔خلاصہ یہ کہ اس آیت میں اسلامی نظام کے قیام کے اصول