انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 487

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده گرتے چلے گئے۔اگر وہ دینی اور دنیوی امور پر مشتمل نظام کے قیام میں ناکام رہنے کے بعد خالص دینی نظام قائم کر لیتے تو وہ بہت بڑی تباہی سے بچ جاتے اور اس کی وجہ سے آج شاید تمام دنیا میں اسلام اتنا غالب ہوتا کہ عیسائیوں کا نام و نشان تک نہ ہوتا مگر چونکہ انہیں یہ غلطی لگ گئی کہ اگر وہ ساری دنیا میں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دنیوی دونوں امور پر مشتمل ہو تو اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی نہیں اس لئے جب ایک نظام ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو دوسرے نظام کو بھی انہوں نے ترک کر دیا۔سری غلطی دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے یہ سبھا انتخاب صرف اس نظام کیلئے ہے جو سب مسلمانوں کے دینی اور دنیوی امور پر حاوی ہو حالانکہ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا تھا کہ انتخاب خالص دنیوی نظام میں بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دینی و دنیوی مشتر کہ نظام میں۔اگر اور نہیں تو وہ اتنا ہی کر لیتے کہ جب بھی کسی کو بادشاہ بناتے تو انتخاب کے بعد بناتے۔تب بھی وہ بہت سی تباہی سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے انتخاب کے طریق کو بھی ترک کر دیا حالانکہ اگر وہ اس نکتہ کو سمجھتے تو وہ ملوکیت کا غلبہ جو اسلام میں ہوا اور جس نے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیا کبھی نہ ہوتا اور مسلمانوں کی کوششیں اسلامی طریق حکومت کے قیام کیلئے جاری رہتیں۔اور مسلمان ڈیما کریسی (DEMOCRACY) کی صحیح ترقی کے پہلے اور سب سے بہتر علم بردار ہوتے۔اختلاف کی صورت میں ایک خالص یہ جو میں نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کہ اختلاف پیدا ہو چکا ہے ایک مذہبی نظام قائم کرنے کا ثبوت خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا اس آیت سے ثبوت ملتا ہے۔وہ اس طرح ہے کہ اس آیت میں سب مسلمان مخاطب ہیں اور انہیں ہر وقت أولى الأمر منكم کی اطاعت کا حکم ہے اس میں کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کہ فلاں زمانہ میں اولی الامر کی اطاعت کرو اور فلاں زمانہ میں نہ کرو بلکہ ہر حالت اور ہر زمانہ میں ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔اگر کوئی کہ کہے اُولی الامر کی اطاعت کا حکم محض وقتی ہے تو ساتھ ہی اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم بھی محض وقتی ہے کیونکہ خدا نے اس سے پہلے اطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول کا حکم دیا ہے۔لیکن اگر خدا اور رسول کے احکام کی اطاعت ہر وقت اور ہر زمانہ میں ضروری ہے تو معلوم ہوا کہ اولی الامر کی اطاعت