انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 481

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده بھی جب میں لوگوں کو دیکھتا کہ انہوں نے سر نیچے اور سرین اونچے کئے ہوئے ہیں تو میں ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں۔اب بتاؤ جب مائیں ایسے سلیم الفطرت بچے پیدا کرنے شروع کر دیں تو واعظوں کے وعظ سے جو جنت تیار ہو آیا وہ ایک دن بھی قائم رہ سکتی ہے۔اسی طرح کوئی مسئلہ لے لوعلمی ہو یا مذہبی ،سیاسی ہو یا اقتصادی، اگر عورت کو اپنے ساتھ شریک نہیں کیا جائے گا تو ان مسائل کے بارہ میں وہ تمہاری اولاد کو بالکل ناواقف رکھے گی اور تمہارا علم تمہارے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دائی جنت مرد کو عورت کے بغیر نہیں مل سکتی اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔پس وہ جنہوں نے اسلامی جنت کو چکلہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے محبت نفس کا اظہار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔اسی جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ولمن خاف مقام ربه جنتن ۳۷ کہ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے ہیں اُن کیلئے دو جنتیں ہیں۔دوسری جگہ فرماتا ومِن دُونِهِما جنتن ۳۸ کہ دو جنتیں دنیا میں ہونگی اور دو ہی اگلے جہاں میں۔کیونکہ ایک ہے۔باغ مرد نے لگایا ہوگا اور ایک عورت نے۔اسی کو جنتین کہا گیا ہے اور اسی کو جنت قرار دیا گیا ہے۔گویا اس باغ کی دو حیثیتیں بھی ہیں اور ایک بھی۔دو اس لحاظ سے کہ ایک مرد کی کوششوں کا نتیجہ ہوگا اور دوسرا عورت کی کوششوں کا نتیجہ اور ایک اس لحاظ سے کہ مرد و عورت دونوں کی یہ مشتر کہ جنت ہوگی۔پھر فرماتا ہے کہ صرف اگلے جہان میں ہی یہ دو جنت نہیں ہونگے بلکہ ومِن دُونِهِمَا جَنَّتَنِ اس دنیا میں بھی دو جنت ہیں جن میں سے ایک کی تعمیر مرد کے سپرد ہے اور ایک کی تعمیر عورت کے سپرد۔پس مؤمنوں کو دو جنتیں تو اس دنیا میں ملتی ہیں اور دو اگلے جہان میں یعنی اسے جسمانی اور روحانی دونوں رنگ کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔جو اپنا دائمی اثر چھوڑ جاتی ہیں۔چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔المَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا والبقيتُ الصيحتُ خَيْرُ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيرا ملا ۳۹ یعنی جو لوگ مال واسباب سے دُنیوی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ایک وقتی فائدہ تو مل جاتا ہے لیکن جو لوگ ایسے اعمال کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوں اُن کے عمل ابدیت کا مقام پالیتے ہیں اور نہ صرف انہیں حاضر ثواب ملتا ہے بلکہ اُن کی وجہ سے ثواب کا ایک دائمی سلسلہ جاری ہوتا ہے۔