انوارالعلوم (جلد 15) — Page 474
انوار العلوم جلد ۱۵ اور اسی رنگ میں ہونا چاہئے جس رنگ میں حضرت خلیفہ اول تھے۔خلافت راشده مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ گفتگو دس بجے کے قریب مجھے مولوی محمد علی صاحب کا پیغام آیا کہ کل والی بات کے متعلق میں پھر کچھ گفتگو کر نا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے اُن کو بلوالیا اور با تیں شروع ہوگئیں۔میں نے اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں کیونکہ آپ ایک خلیفہ کی بیعت کر کے اس اصول کو تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جماعت میں خلفاء کا سلسلہ جاری رہے گا صرف اس امر پر بحث کریں کہ خلیفہ کون ہو۔وہ بار بار کہتے تھے کہ اس بارہ میں جلدی کی ضرورت نہیں جماعت کو چار پانچ ماہ غور کر لینے دیا جائے۔اور میرا جواب وہی تھا جو میں ان کو پہلے دے چکا تھا بلکہ میں نے اُن کو یہ بھی کہا کہ اگر چار پانچ ماہ کے بعد بھی اختلاف ہی رہا تو کیا ہوگا۔اگر آپ کثرتِ رائے پر فیصلہ کریں گے تو کیوں نہ ابھی جماعت کی کثرت رائے سے یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ کون خلیفہ ہو۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ باہر جو لوگ موجود ہیں اُن سے مشورہ لے لیا جائے۔اس پر مولوی صاحب کے منہ سے بے اختیار یہ فقرہ نکل گیا کہ میاں صاحب ! آپ کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کس کو خلیفہ بنائیں گے۔میں نے کہا لوگوں کا سوال نہیں میں خود یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں اور میرے ساتھی بھی اس غرض کیلئے تیار ہیں مگر انہوں نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ آپ جانتے ہیں وہ کس کو منتخب کریں گے۔اس پر میں مایوس ہو کر اُٹھ بیٹھا کیونکہ باہر جماعت کے دوست اس قدر جوش میں بھرے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے دروازے توڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے اور آپ کی طرف سے کوئی امر طے ہونے میں ہی نہیں آتا۔آخر میں نے مولوی صاحب سے کہا چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو وہ کریں۔ہم اپنے طور پر لوگوں سے مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔چنانچہ یہ کہتے ہوئے میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہوگئی۔عصر کی نماز کے بعد جب نواب محمد علی خان صاحب نے خلافت ثانیہ کا قیام حضرت خلیفہ اول کی وصیت سنانے کے بعد لوگوں سے درخواست کی کہ وہ کسی کو آپ کا جانشین تجویز کریں تو سب نے پالا تفاق میرا نام لیا اور اس طرح