انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 19

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کے گھر جنم لیتی ہیں اور جو سپاہیا نہ طاقت رکھتی ہیں وہ کھتریوں کے ہاں اور جو تاجرانہ لیاقت رکھتی ہیں وہ ویش کے ہاں جنم لیتی ہیں اور جو خراب اور ناکارہ ہیں وہ شودروں کے ہاں جنم لیتی ہیں ۔ اس عقیدہ سے انہوں نے ادنی اقوام کی بغاوت کے امکان کو دور کر دیا کیونکہ اگر شودروں کو یہ کہا جاتا کہ تم ہمیشہ کیلئے شو د ر ہی رہو گے تو ممکن تھا کہ وہ بغاوت کرتے ۔ یا اگر کھتریوں کو کہا جاتا کہ تمہارا کام صرف جان دینا ہے تو وہ برہمن حکومت کے خلاف کھڑے ہو جاتے ۔ پس انہیں اس عقیدہ کے ذریعہ سے خاموش کرا دیا گیا تا کہ وہ لوگ برہمن فوقیت کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کر لیں کیونکہ انہیں یقین دلا دیا گیا کہ در حقیقت برہمن یا کھتری یا ویش یا شو در ایک نسل نہیں ہیں بلکہ یہ تو عہدے ہیں جو اچھی یا بری روحوں کو ملتے ہیں ۔ اب جس طرح ایک جمعدار کو ایک رسالدار کے خلاف، ایک رسالدار کو ایک لفٹنٹ کے خلاف شکوہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے بوجہ لیاقت یہ عہدہ ملا ہے اور جب میں لیاقت دکھاؤں گا تو یہ عہدہ مجھے بھی مل جائے گا اسی طرح ایک شودر کو ویش کے، ایک ویش کو کھتری کے اور ایک کھتری کو ایک برہمن کے خلاف شکوہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ جنم تو گزشتہ ا چنم تو گزشتہ اعمال کے نتیجہ میں ملے ہیں ۔ اگر اگر ایک شود راچھے اعمال کرے گا تو اگلے جنم میں وہ برہمن کے گھر پیدا ہو جائے گا اور خراب برہمن شودر کے گھر پیدا ہو گا۔ اس طرح تفوق کو قائم رکھتے ہوئے بھی آرین تہذیب کے بانیوں نے اس تفوّق کے خلاف بغاوت کے امکانات کو مٹا دیا اور ایک خیالی امید دوسری قوموں کے دلوں میں ایسی پیدا کر دی کہ وہ اس کھلونے کے ساتھ کھیلنے میں مشغول رہے اور اپنے حقیقی درد اور دُکھ کو بالکل ٹھول گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود انتہاء سے بڑھے ہوئے نسلی ظلم کے ہزاروں سال سے ادنیٰ کہلانے والی اقوام اپنی حالت پر قانع ہیں کیونکہ تناسخ نے ہر شودر کی نگاہ میں اس کی نسلی تذلیل کا زمانہ صرف اس کی موجودہ جون کے زمانہ میں محدود کر دیا اور ہر شو در جس کے دل میں موجودہ نظام کے خلاف بغاوت کے خیالات اُٹھتے ہیں یہ خیال کر کے خاموش ہو جاتا ہے کہ میں اس جون میں اپنے گناہوں کی وجہ سے آیا ہوں ورنہ شاید میں بھی پہلے برہمن ہی تھا اور اب برہمنوں کو خوش کر کے شاید آئندہ زمانہ میں میں بھی برہمن بن جاؤں گا۔ پس جس رتبہ کے حصول کی امید مجھے لگی ہوئی ہے میں اپنے ہاتھوں اس رتبہ کی عزت کم کر کے کیوں اپنی آئندہ ترقی کے امکانات کو کم کروں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نسلی تفوق کی حفاظت کیلئے تناسخ کے مسئلہ کی ایجاد ایک اعلیٰ دماغ کا حیرت انگیز کارنامہ ہے اور اگر اس کی وجہ سے کروڑوں بنی نوع انسان کو ہزاروں سال کی غلامی