انوارالعلوم (جلد 15) — Page 458
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده آپ کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی اس لئے آپ نے اپنی بیوی اسماء کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے اور ہاتھ کانپ رہے تھے آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ عمر کو خلیفہ نامزد کر دوں۔سو میری وفات کے بعد عمر تمہارے خلیفہ ہوں گے۔۲۸ سب صحابہ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمر کی بیعت ہو گئی۔حضرت عثمان کا انتخاب حضرت عمرؓ جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ ب اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمانؓ ، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن الوقاص، حضرت زبیر، حضرت طلحہ۔۳۹ اس کے ساتھ ہی حضرت عبداللہ بن عمر کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کیلئے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کیلئے صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن الاسودؓ کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں۔اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو۔سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبد اللہ بن عمران میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا ( کیونکہ طلحہ اس وقت مدینہ میں نہ تھے ) مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام وا پس لینا چاہتا ہے وہ بولے جب سب خاموش رہے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا پھر باقی دونے۔حضرت علیؓ خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپر د ہو گیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف تین