انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 457

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں ہم نے محمد رسول اللہ لہ کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دُنیوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لئے کی تھی کہ ہمیں آپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا کیلئے کی تھی پس حق کا سوال نہیں بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی لمبی صحبت پائی ہے۔اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ یا پون گھنٹہ کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرح ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہئے چنانچہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ کو اس منصب کے لئے پیش کیا اور کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لومگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم ﷺ نے نماز کا امام بنایا اور جو سب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے۔مطلب یہ تھا کہ اس منصب کیلئے حضرت ابو بکڑ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں۔چنانچہ اس پر حضرت ابو بکر کی بیعت شروع ہوگئی۔پہلے حضرت عمر نے بیعت کی ، پھر حضرت ابو عبیدہ نے بیعت کی ، پھر بشیر بن سعد خزرجی نے بیعت کی اور پھر اوس نے اور پھر خزرج کے دوسرے لوگوں نے اور اسقدر جوش پیدا ہوا کہ سعد جو بیمار تھے اور اُٹھ نہ سکتے تھے ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعد اور حضرت علیؓ کے سوا سب نے بیعت کر لی۔حتی کہ سعد کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔حضرت علی نے کچھ دنوں بعد بیعت کی۔چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ بعد بیعت کی۔چھے ماہ والی روایات میں یہ غذر بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ کی تیمارداری میں مصروفیت کی وجہ سے آپ حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کر سکے اور جب آپ بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے یہ معذرت کی کہ چونکہ فاطمہ بیمار تھیں اس لئے بیعت میں دیر ہوگئی۔۲۷ حضرت عمرؓ کا انتخاب حضرت ابوبکر کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں۔اکثر صحابہؓ نے اپنی رائے حضرت عمرؓ کی امارت کے متعلق ظاہر کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمر کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشد د کر یں۔آپ نے فرمایا یہ تختی اسی وقت تھی جب تک ان پر کوئی ذمہ واری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ واری ان پر پڑ جائے گی ان کی تختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آ جائے گا۔چنانچہ تمام صحابہ حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی ہو گئے۔