انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 454

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نبی کی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت اور اس کی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نبی کی زندگی میں صلى الله وسام ردہ اخفاء میں رکھتا ہے ایسے ہی حالات میں رسول کریم و علی فوت ہوئے ۔ جب ہوئے۔ جب آپ وفات پا گئے تو پہلے تو بعض صحابہ نے سمجھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے مگر جب انہیں پتہ لگا کہ آپ واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں تو وہ حیران ہوئے کہ اب وہ کیا کریں اور وہ کون سا طریق عمل میں لائیں جو رسول کریم کے لائے ہوئے مشن کی تکمیل کے لئے ضروری ہو۔ اسی پریشانی اور اضطراب کی حالت میں وہ اِدھر اُدھر پھرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی ہی دیر کے اندر ان میں دو گروہ ہو گئے جو بعد میں تین گروہوں کی صورت میں منتقل ہو گئے ۔ صلى الله رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہ کے تین گروہ ایک گروہ نے یہ یہ خیال کیا کہ ۔ رسول کریم ﷺ کے بعد ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہئے جو نظام اسلامی کو قائم کرے مگر چونکہ نبی کے منشاء کو اس کے اہل وعیال ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اس لئے نبی کریم ﷺ کے اہل میں سے ہی کوئی شخص مقرر ہونا چاہئے کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص نہیں ہونا چاہئے ۔ اس گروہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو گیا تو لوگ اس کی باتیں مانیں گے نہیں اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا لیکن اگر آپ کے خاندان میں سے ہی کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو چونکہ لوگوں کو اس خاندان کی اطاعت کی عادت ہے اس لئے وہ خوشی سے اس کی اطاعت کو قبول کر لیں گے۔ جیسے ایک بادشاہ جس کی بات ماننے کے لوگ عادی ہو چکے ہوتے ہیں جب وفات پا جاتا ہے اور اُس کا بیٹا اُس کا جانشین بنتا ہے تو وہ اُس کی اطاعت بھی صلى الله عروسة شوق سے کرنے لگ جاتے ہیں ۔ مگر دوسرے فریق نے سوچا کہ اس کے لئے رسول کریم کے اہل میں سے ہونے کی شرط ضروری نہیں مقصد تو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا ایک جانشین ہو پس جو بھی سب سے زیادہ اس کا اہل ہو اس کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے ۔ الله اس دوسرے گروہ کے پھر آگے دو حصے ہو گئے اور گو وہ دونوں اس بات میں متحد تھے کہ رسول کریم ﷺ کا کوئی جانشین ہونا چاہئے مگر ان میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ جانشین کن لوگوں میں سے ہو۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ جو لوگ سب سے صلى الله زیادہ عرصہ تک آپ کے زیر تعلیم رہے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں یعنی مہاجر اور ان میں سے بھی قریش جن کی بات ماننے کیلئے عرب تیار ہو سکتے ہیں اور بعض نے یہ خیال کیا کہ چونکہ رسول کریم