انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 453

انوار العلوم جلد ۱۵ ظاہر ہوتا ہے۔خلافت راشده دوسرا جواب جو درحقیت شیعوں کے اس قسم کے بے بنیاد خیالات کو رڈ کرنے کے لئے ایک زبر دست تاریخی ثبوت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر وصیت وہی شخص لکھوا سکتا ہے جسے یہ یقین ہو کہ اب موت سر پر کھڑی ہے اور اگر اس وقت وصیت نہ لکھوائی گئی تو پھر وصیت لکھوانے کا کوئی موقع نہیں رہے گا لیکن جسے یہ خیال ہو کہ مریض کو اللہ تعالیٰ صحت عطا کر دے گا اور جس مرض میں وہ مبتلاء ہے وہ مرض الموت نہیں بلکہ ایک معمولی مرض ہے تو وہ وصیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ اس غرض کے لئے اسے تکلیف دینا بالکل بے فائدہ ہے۔اب اس اصل کے ماتحت جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی وفات پر صحابہ کو پیش آئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو حکومت سنبھالنے کا خیال تو الگ رہا یہ بھی خیال نہیں تھا کہ آنحضرت فوت ہونے والے ہیں۔چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے وفات پائی تو اس اچانک صدمہ نے جوان کی توقع اور امید کے بالکل خلاف تھا حضرت عمرؓ کو دیوانہ سا بنادیا اور انہیں کسی طرح یہ یقین بھی نہیں آتا تھا کہ رسول کریم ﷺ وفات پاگئے ہیں۔وہ جنہیں رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی یہ یقین نہیں آتا تھا کہ آپ وفات پاگئے ہیں اور جن کے دل میں آپ کی محبت کا احساس اس قدر شدت سے تھا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا ان کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ رسول کریم آب فوت ہونے والے ہیں آپ حضرت علیؓ کے حق میں کوئی بات نہ لکھوا دیں آپ کو کچھ لکھنے سے روک دیا ہو۔بلکہ اگر ہم غور کریں تو شیعوں کی ان روایات سے حضرت علی پر اعتراض آتا ہے کہ آپ آنحضرت ﷺ کی وفات کی توقع کر رہے تھے جبکہ حضرت عمرؓ شدت محبت کی وجہ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ معمولی بیماری کی تکلیف ہے آپ اچھے ہو جائیں گے اور ابھی وفات نہیں پاسکتے۔پس اس سے حضرت علی پر تو اعتراض وارد ہوتا ہے مگر حضرت عمر پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ یہ امران کی نیکی ، تقوی اور فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔صلى الله اللہ تعالیٰ نبی کی قومی زندگی کی غرض میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ نبی بھی الہام سے ابتداء کرتا ہے کی قومی زندگی کی ابتداء کرتا ہے اسی لئے