انوارالعلوم (جلد 15) — Page 433
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ونَعُوذُ الله رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ باہمی جھگڑوں کے نپٹانے اور نظام کو قائم رکھنے کے متعلق کوئی ہدایات دے سکیں۔مگر فرمایا۔ہم ان کی اس بات کو غلط قرار دیتے ہیں اور على الإغلان کہتے ہیں کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ یہ کبھی مومن نہیں کہلا سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میں اے محمد رسول اللہ ﷺ ! تجھے حکم تسلیم نہ کریں اور پھر تیری قضاء پر وہ دل و جان سے راضی نہ ہوں۔اس آیت کریمہ میں دو نہایت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو آخری قاضی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کا جو فیصلہ بھی ہو گا وہ آخری ہوگا اور اس پر کسی اور کے پاس کسی کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہوگا اور آخری فیصلہ کا حق رسول کریم ﷺ کو دینا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکومت کے اختیارات حاصل تھے۔دوسری بات جو اس سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان فیصلوں کے تسلیم کرنے کو ایمان کا جزو قرار دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ تیرے رب کی قسم ! وہ کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک وہ تیرے فیصلوں کو تسلیم نہ کریں۔گویا یہ بھی دین کا ایک حصہ ہے اور ویسا ہی حصہ ہے جیسے نماز دین کا حصہ ہے، جیسے روزہ دین کا حصہ ہے، جیسے حج اور زکوۃ دین کا حصہ ہے۔فرض کرو زید اور بکر کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میں نے ے سے دس روپے لینے ہیں اور دوسرا کہتا ہے میں نے کوئی روپیہ نہیں دینا۔دونوں رسول کریم کے پاس پہنچتے ہیں اور اپنے جھگڑے کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور رسول کریم ایک کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں تو دوسرا اس فیصلے کو اگر نہیں مانتا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ مؤمن نہیں رہا۔پس باوجود یکہ وہ نماز پڑھتا ہوگا ، وہ روزے رکھتا ہوگا ، وہ حج کرتا ہوگا ، اگر وہ اس حصہ میں آکر رسول کریم اللہ کے کسی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اس کے متعلق یہی ہے کہ اس انکار کے بعد وہ مؤمن نہیں رہا۔پس لا يؤمنون کے صلى الله الفاظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اس حصہ کو بھی دین کا ایک جزو قرار دیا ہے علیحدہ نہیں رکھا۔(۳) تیسری جگہ فرماتا ہے انما كان قول الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی مؤمنوں کو جب خدا اور اُس کا رسول بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے جھگڑے کا