انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 432

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نفاذ قانون کے متعلق تفصیلی ہدایات اس تمہید کے بعد میں اب اصل سوال کی طرف آتا ہوں۔رسول کریم ہے عرب میں مبعوث ہوئے اور عرب کا کوئی تحریر شدہ قانون نہ تھا۔قبائلی رواج ہی ان میں قانون کا مرتبہ رکھتا تھا۔چنانچہ کسی قبیلہ میں کوئی قانون تھا اور کسی قبیلہ میں کوئی۔وہ انہی قبائلی رواج کے مطابق آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ کر لیتے۔یا جب انہوں نے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو معاہدہ کر لیتے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے سامنے آسمانی شریعت پیش کی اور کہا کہ میرے خدا نے تمہارے لئے یہ تعلیم مقرر کی ہے تم اس پر عمل کرو اور پھر اس پر ان سے عمل کرایا بھی۔اگر تو قرآن جو آسمانی صحیفہ ہے صرف نماز روزہ کے احکام پر اور بعض عقائد کے بیان پر اکتفاء کرتا اور احکام سیاست و تدبیر ملکی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے تو خواہ وہ زور سے ان کی پابندی کراتے کوئی کہہ سکتا تھا کہ عربوں نے مسلمانوں پر ظالمانہ حملہ کر کے اپنی حکومت تباہ کر لی اور ملک بغیر نظام اور قانون کے رہ گیا۔اس مشکل کی وجہ سے وقت کی ضرورت سے مجبور ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک کو ابتری سے بچانے کیلئے کچھ قانون تجویز کر دئیے اور ان پر لوگوں سے عمل کرایا اور یہ حصہ آپ کے عمل کا مذہب نہ تھا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان امور کے متعلق بھی تفصیلی احکام قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ صرف احکام موجود ہیں بلکہ ان کے نفاذ کے متعلق بھی احکام ہیں۔مثلاً (1) اللہ تعالیٰ سورہ حشر میں فرماتا ہے۔ما السكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُودة و ما نهىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا - یعنی اے مسلمانو! محمد رسول اللہ ﷺ جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس بات سے وہ تمہیں روکیں اُس سے رُک جاؤ۔گویا رسول کریم ﷺ کا حکم مسلمانوں کیلئے ہر حالت میں ماننا ضروری ہے۔(۲) دوسری جگہ فرماتا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ تم لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلّمُوا تَسْلِيمًا یعنی تیرے رب کی قسم ! جب تک وہ ہر اُس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنا ئیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے وہ اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیں اُس وقت تک وہ ہرگز ایماندار نہیں ہو سکتے۔بعض لوگ رسول کریم ﷺ پر یہ اعتراض کیا کرتے تھے بلکہ اس زمانہ میں بھی ایسے معترض موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ