انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 431

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده جب کوئی پوچھے کہ عمارت کب بنے گی اور اس کا کیا نقشہ ہو گا ؟ تو وہ کہے کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔صاف بات ہے کہ جب اس نے اینٹیں اکٹھی کیں ، جب اس نے دروازے کھڑکیاں اور روشندان بنوائے ، جب اس نے چونے اور گارے کا انتظام کیا تو آخر اسی لئے کیا کہ وہ مکان بنائے اس لئے تو نہیں کیا کہ وہ چیز میں بے فائدہ پڑی رہیں اور ضائع ہو جا ئیں۔اسی طرح جب قرآن نے وہ تمام باتیں بیان کر دی ہیں جن کا حکومت کے ساتھ تعلق ہوا کرتا ہے تو عقل انسانی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے نظام حکومت چلانے کا حکم نہ دیا ہو اور نہ یہ بتایا ہو کہ اس نظام کوکس رنگ میں چلایا جائے اور اگر وہ یہ نہیں بتا تا تو تم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ قرآن نَعُوذُ بِاللهِ ناقص ہے۔حکومت کے تمام شعبوں کے غرض جبکہ اسلام نے حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق تفصیلی ہدایات دے دی ہیں تو کوئی 3- متعلق اسلام کی جامع ہدایات شخص نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ۔ہر قوم اور ہر ملک اپنے لئے کوئی مناسب طریق تجویز کرنے میں آزاد ہے۔ہاں وہ یہ بحث ضرور کر سکتا ہے کہ کسی خاص امر میں شریعت اسلامیہ نے اسے آزاد چھوڑ دیا ہے مگر یہ بات بالکل خلاف عقل ہو گی کہ اسلام نے چھوٹے چھوٹے حقوق تو بیان کئے لیکن سب سے بڑا حق کہ فرد کو حکومت کے مقابل پر کیا حقوق حاصل ہیں اور حکومت کو کس شکل اور کس صورت سے افراد میں احکام الہیہ کو جاری کرنا چاہیئے اس اہم ترین سوال کو اس نے بالکل نظرانداز کر دیا۔اگر ہم یہ کہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب ناقص ہے۔جو مذہب شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے وہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں میرے دائرہ سے باہر ہیں اور اس مذہب کو ناقص بھی ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق روشن ہدایات نہیں دیں۔مثلاً ایسا مذ ہب اگر خدا اور بندے کے تعلق پر بحث نہیں کرتا یا یہ نہیں بتاتا کہ بندوں کا بندوں سے کیسا تعلق ہونا چاہئے یا امور مملکت اور سیاست کے متعلق کوئی ہدایت نہیں دیتا تو وہ آسانی سے چھٹکارا پا جاتا ہے کیونکہ وہ شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے لیکن جو مذہب ان امور میں دخل دیتا ہے اور اس امر کو مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان امور میں دخل دے اس کا ایسے اہم مسئلہ کو چھوڑ دینا اور لاکھوں کروڑوں آدمیوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈال دینا یقیناً ایک بھول اور نقص کہلائے گا۔