انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 425

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده بلکہ رسول کریم ہے کے ان کاموں کو بھی جو نظام سلطنت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں دُنیوی کام قرار دینا پڑتا ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ بعد کے لوگوں کیلئے سنت اور قابل عمل نہیں ہے۔اس تمہید کے بعد اب میں اصولی طور پر خلافت و نظام اسلامی کے مسئلہ کو لیتا ہوں۔مذہب کی دو قسمیں میرے نزدیک اس مسئلہ کو مجھے سے پہلے یہ ام سمجھ لینا ضر وری ہے کہ دنیا کے مذاہب دو قسم کے ہیں (۱) اوّل وہ مذاہب جو مذہب کا دائرہ عمل چند عبادات اور اذ کار تک محدود رکھتے ہیں اور امور اعمال دُنیوی کو ایک علیحدہ امر قرار دیتے ہیں اور ان میں کوئی دخل نہیں دیتے۔وہ کہیں گے نمازیوں پڑھو، روزے یوں رکھو، صدقہ و خیرات یوں کرو، لوگوں کے حقوق یوں بجا لاؤ ، غرض عبادات اور اذکار کے متعلق وہ احکام بیان کریں گے مگر کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کا نظام کے ساتھ تعلق ہو یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق ہو یا ئبین الاقوامی حالات کے ساتھ تعلق ہو یا لین دین کے معاملات کے ساتھ تعلق ہو یا ورثہ کے ساتھ تعلق ہو۔وہ ان امور کے متعلق قطعا کوئی تعلیم نہیں دیں گے۔مسیحی مذہب میں شریعت کو اس قسم کے مذاہب میں سے ایک مسیحی مذہب ہے اور اس مذہب میں جو شریعت کو لعنت قرار لعنت قرار دینے کا اصل باعث دینے پر زور دیا گیا ہے اس کی وجہ بھی زیادہ تر یہی ہے کہ وہ افراد کے اعمال کو مذہب کی پابندیوں سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مذہب کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کہے تم نمازیں پڑھو تم روزے رکھو تم حج کرو، تم زکوۃ دو تم عیسیٰ کو خدا سمجھو۔اسے اس بات سے کیا واسطہ ہے کہ قتل ، فساد، چوریوں اور ڈاکوں کے متعلق کیا احکام ہیں یا یہ کہ تو میں آپس میں کس طرح معاہدات کریں، یا اقتصاد کو کس طرح کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں شریعت کا اِن امور سے کوئی واسطہ نہیں۔اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو ورثہ میں سے حصہ دینے کا سوال ہو تو وہ کہہ دیں گے کہ اس میں شریعت کا کیا دخل ہے یہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ جس امر میں قوم کا فائدہ دیکھے اسے بطور قانون نافد کر دے۔اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم سود لیں گے چاہے روپیہ کی صورت میں لیں اور چاہے جنس کی صورت میں۔تو مذہب کو کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ روپیہ کے بدلہ میں سودی روپیہ لینا ناجائز ہے۔غرض وہ مذہب کے اُن احکام سے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شدید نفرت کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے شریعت کو لعنت قرار دے لیا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ روزہ رکھنا لعنت