انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 426

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہے۔اگر روزہ رکھنا لعنت کا موجب ہوتا تو انجیل کے پرانے ایڈیشنوں میں یہ کس طرح لکھا ہوتا کہ :- اس طرح کے دیو بغیر دعا اور روزہ کے نہیں نکالے جاتے، کے اور کیا ممکن ہے کہ ایک طرف تو انجیلوں میں اس قسم کے الفاظ آتے اور دوسری طرف یہ کہا جا تا کہ شریعت لعنت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب عیسائیوں نے یہ کہا کہ شریعت لعنت ہے تو اس کے معنی یہی تھے کہ شریعت کا نظام قومی کو معین کر دینا لعنت ہے اور مذہب کوا مورد نیوی کے متعلق کوئی حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ ان امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم خود اپنے لئے قوانین تجویز کر سکتی ہے۔اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امور سلطنت میں اس نے لگائی تھیں۔بیشک حضرت مسیح علیہ السلام نے جب یہ فقرہ کہا (بشرطیکہ ان کی طرف اسے منسوب کیا جا سکے ) تو ان کا مطلب یہ نہیں تھا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہود نے جو شریعت کے ظاہری احکام کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ باطن اور روحانیت کو انہوں نے بالکل بھلا دیا ہے یہ امران کے لئے ایک لعنت بن گیا ہے اور اس نے انہیں حقیقت سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔لیکن جب مسیحیت روما میں پھیلی تو چونکہ وہ لوگ اپنے قومی دستور کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ رومن لا ء سے بہتر اور کوئی لا نہیں بلکہ آج تک رومن لا ء سے ہی یورپین حکومتیں فائدہ اُٹھاتی چلی آئی ہیں اس لئے وہاں کے لوگ جو بڑے متمدن اور قانون دان تھے انہوں نے خیال کیا کہ دُنیا میں ہم سے بہتر کوئی قانون نہیں بنا سکتا ادھر انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب کی تعلیم بڑی اچھی ہے خدا تعالیٰ کی محبت کے متعلق ، معجزات اور نشانات کے متعلق ، دعاؤں کے متعلق مسیح کی قربانیوں کے متعلق۔جب انہوں نے عیسائیت کی تعلیمات کو دیکھا تو ان کے دل عیسائی مذہب کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ مذہب واقع میں اس قابل ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے۔مگر دوسری طرف وہ یہ امر بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ یہودی شریعت کو جس کو وہ رومن لاء کے مقابلہ میں بہت ادنیٰ سمجھتے تھے اپنے اندر جاری کریں۔پس وہ ایک عجیب مخمصے میں مبتلاء ہو گئے۔ایک طرف عیسائیت کی دلکش تعلیم انہیں اپنی طرف کھینچتی تھی اور دوسری طرف رومن لاء کی برتری اور فوقیت کا احساس انہیں یہودی شریعت کے آگے اپنا سر جُھکانے نہیں دیتا تھا۔وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ ان کی نگاہ عہدِ جدید کے ان فقرات پر پڑی کہ :-