انوارالعلوم (جلد 15) — Page 365
انوار العلوم جلد ۱۵ احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی۔مٹا سکے گی۔عیسائیت کی کیا طاقت ہے کہ یہاں قبضہ جمائے۔عیسائیت تو ہمارا شکار ہے اور عیسائیت کے ممالک ہمارے شکار ہیں۔عیسائیت ہمارے مقابلہ میں گرے گی اور ہم اِنشَاءَ اللهُ فتح پائیں گے (نعرہ ہائے تکبیر ) وہ دن گئے جب مریم کا بیٹا خدا کہلاتا تھا۔مریم کے جسمانی بیٹے کو انیس سو سال تک دنیا میں خدا کی توحید کے مقابلہ میں کھڑا کیا گیا اور بہتوں کو خدا تعالیٰ کی توحید سے پھرا دیا گیا مگر اب جو مریم کا روحانی بیٹا خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین میں اسی طرح قائم کرے گا جس طرح اس کی بادشاہت آسمان پر قائم ہے۔آج ہم اس جگہ پھر جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنی عقیدت اور اپنا اخلاص اپنے رب سے ظاہر کریں اور دنیا کو بتادیں کہ احمدیت خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر متفقہ جد و جہد کرنے کیلئے کھڑی ہے اور خدا تعالیٰ کے دین کیلئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے آمادہ ہے۔احمدی کہلانے والے پھر ایک دفعہ یہاں جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ ان کا ایک دوسرے کے گھر جا کر ایک دوسرے کے متعلق یہ دیکھنا مشکل ہے کہ ان کا کیا حال ہے۔لاہور کے کسی بازار میں اتفاقاً ایک احمدی دوسرے احمدی کو دو سال بعد دیکھتا تو اسے خیال پیدا ہوتا کہ وہ مرتد تو نہیں ہو گیا۔اسی طرح چند سال کے بعد ایک احمدی دوسرے احمدی کو امرتسر کے بازار میں دیکھتا تو خیال کرتا نہ معلوم احمدیت سے اس کا تعلق ہے یا نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ احمدی ہر سال مرکز میں جمع ہوں، زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں اور مخالفین سے یہ کہتے ہوئے جمع ہوں کہ دیکھ لو خدا تعالی زیادہ سے زیادہ احمدیت کو ترقی دے رہا ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ ہم قادیان کے فاتح ہیں ، ہم قادیان کو مٹادیں گے مگر وہ آئیں اور دیکھیں کہ ان کے مٹانے سے کس طرح احمدیت بڑھ رہی ہے۔بچپن میں ہم ایک قصہ سنا کرتے تھے اور اسے لغو سمجھتے تھے مگر روحانی دنیا میں وہ درست ثابت ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کوئی دیو تھا۔اسے جب قتل کیا جاتا تو اس کے خون کے جتنے قطرے گرتے اتنے ہی اور د یو پیدا ہو جاتے۔معلوم ہوتا ہے انبیاء کی جماعتوں کا ہی یہ نقشہ کھینچا گیا ہے کیونکہ انہیں جتنا کچلا جائے ، جتنا دبایا جائے اتنی ہی بڑھتی ہیں اور جتنا گرایا جائے اتنی ہی زیادہ ترقی کرتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہر ملک، ہر علاقہ اور ہر میدان میں احمدیت کی ترقی کے